رسائی کے لنکس

نیٹو کانفرنس میں افغان جنگ کی مرکزی حیثیت رہے گی

  • کینٹ کلین

نیٹو کانفرنس میں افغان جنگ کی مرکزی حیثیت رہے گی

نیٹو کانفرنس میں افغان جنگ کی مرکزی حیثیت رہے گی

امریکہ کے صدر براک اوباما نیٹو کے اہم اجلاس میں شرکت کے لئے آئیندہ ہفتے پرتگال کے شہر Lisbonجائیں گے جہاں یورپی یونین اور روس کے رہنماؤں کے ساتھ افغان جنگ میں اتحادی افواج کے کرداراورنیٹو کے مستقبل کے بارے میں ہونے والی با ت چیت میں حصہ لیں گے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نیٹو کے اہم اجلاس میں شرکت کے لئے آئیندہ ہفتے پرتگال کے شہر Lisbonجائیں گے جہاں یورپی یونین اور روس کے رہنماؤں کے ساتھ افغان جنگ میں اتحادی افواج کے کرداراورنیٹو کے مستقبل کے بارے میں ہونے والی با ت چیت میں حصہ لیں گے۔

گو کہ لزبن کانفرنس میں امریکی سیاست ایجنڈے کا حصہ نہیں مگر امریکہ کے حالیہ وسط مدتی انتخابات اس میں گرما گرم بحث کاموضوع بن سکتے ہیں۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر James Goldgeierکہتے ہیں کہ لزبن کانفرنس میں شریک رہنما شاید یہ سوچ رہیں ہوں گے کہ انتخابات میں شکست کے بعد کیا خارجہ پالیسی کے معاملے میں صدر اوباما کا موقف کمزور ہوا ہے یا نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں اتحادی اور روس دونوں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ وسط مدتی انتخابات امریکی صدر کے لئے کیا معنی رکھتے ہیں اور یہ کہ کیا یہ شخص وہ سب کچھ کر سکے گا جو یہ کرنا چاہتا ہے۔

واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن سے منسلک Micheal O'Hanlonکا کہنا ہے کہ صدر اوباما عالمی سطع پر اب بھی ایک مضبوط رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر اوباما دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے کمانڈر ان چیف ہیں۔ ‘بیرونی ممالک میں اب بھی کافی حد تک مقبول ہیں اور بیرونی دنیا میں ایسے بہت سے معاملات ہیں جن میں امریکہ کا بھر پور کردار اہمیت کا حامل ہے جیسے افغانستان میں۔ ’

کانفرنس میں افغان جنگ نیٹو کے ایجنڈے پر ہوگی۔ وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ صدر اوباما اب بھی جولائی سن2011 سے فوج کی واپسی کے آغاز کے منصوبے پر عمل درآمد چاہتے ہیں مگر حال ہی میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ سن2014سے ملک کا دفاع افغان فورسز کے حوالے کیا جائے۔ روس کے صدر Dmitry Medvedevنیٹو کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور افغانستان ہر حال زیر بحث آئے گا۔ مائیکل او ہینلن کہتے ہیں کہ روس پہلے ہی کئی طریقوں سے نیٹو کی مدد کر رہا ہے جیسے فوجی سازوسامان کی روس اور سنٹرل ایشیا ئی ممالک سے ترسیل۔

‘افغانستان میں ایک لاکھ چالیس ہزار اتحادی فوجی ہیں اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ ایک بہت بڑا فائدہ ہے۔ اور پاکستان کے ساتھ تعلقات مشکلات کا شکار ہیں تو ہم فوجی رسد کے لئے مکمل طور پر ان پر انحصار نہیں کر سکتے’۔

روسی صدر کی نیٹو کے اجلاس میں شرکت سے ایک طرف نیٹو اور روس کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے اوردوسری طرف امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے کا موقع ہوگا۔امریکی اور روسی صدور اور دوسرے رہنماؤں کے ذہنوں میں میزائل ڈیفنس کے معاملات ہونگے ۔روس نے سابق امریکی صدر جارج بش کے دور میں بنائے گئے دفاعی منصوبے کی مخالفت کی تھی ۔ اس منصوبے کے تحت میزائل سسٹمز پولینڈ اور چیک ری پبلک میں نصب کئے جانے تھے۔ اوباما انتظامیہ نے ایک نیا منصوبہ تجویز کیا ہے جس میں ایران کی طرف سے جوہری خطرات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ صدر اوباما توقع رکھتے ہیں کہ ان کے روسی ہم منصب اس مسلے پر نیٹو کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

پروفیسر جیمس کہتے ہیں یہ صدر اوباما کے لئے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔‘ نہ صرف ان کی خارجہ پالیسی یا نیٹو پالیسی کے لئے بلکہ اس سے ایران کو بھی اشارہ ملے گا کہ روس بھی اس کے پروگرام کو خطرہ سمجھتا ہے اور اسی لئے دفاعی پروگرام میں شمولیت اختیار کرنا چاہتا ہے’۔

کانفرنس کے دوران نیٹو رہنما اتحاد کے مشن کی رہنمائی کے لئے ایک نئے Strategic Conceptپر بحث بھی کریں گے۔جس کا مقصد نیٹو کو نئے خطرات جیسے سائیبر اور دہشت گرد حملوں سے نمٹنے کے لئے لچکدار بنانا ہے۔ صدر اوباما اس موقع پر یورپی یونین کے رہنماؤں سے معاشی معاملات پر بھی بات چیت کریںٕ گے۔

XS
SM
MD
LG