رسائی کے لنکس

وائٹ ہاؤس: اوباما، نتن یاہو ملاقات

  • ڈین سن

صدر براک اوباما اوراسرائیلی وزیر ِاعظم بینجمن نتن یاہو کی منگل کے روزوائٹ ہاؤس میں ملاقات ہورہی ہے، جِس میں اسرائیل فلسطینی امن کے بارے میں کوششوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بیجمن نتن یاہو کا واشنگٹن کا آخری دورہ مارچ میں ہوا تھا جب عرب مشرقی یروشلم کے علاقے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی پالیسی پر کشیدگی کے باعث تعلقات برسوں میں انتہائی کھچاؤ کا شکار تھے۔اِس ملاقات میں ذرائعِ ابلاغ کو دور ہی رکھا گیا تھا اور دونوں لیڈروں نے معمول کے مطابق کیمرے پر بیان جاری نہیں کیے۔

اُس وقت، صدر اوباما، مسٹر نتن یاہو اور سینئر معاون گھنٹوں تک اس مسئلے اور دوسرے امور پر بات چیت کرتے رہے۔

مسٹر نتن یاہو نے پروگرام کے مطابق یکم جولائی کو ایک طے شدہ ملاقات اُس وقت ملتوی کردی جب ایک امدادی بحری بیڑے پر اسرائیلی بحریہ نے حملہ کردیا اور اُسے عالمی سطح پر تنقید کا سامنا رہا۔

منگل کے روز ہونے والی ملاقات گذشتہ مارچ کے مقابلے میں کچھ مختلف ہے۔ ٹیلی ویژن کیمروں اور ذرائعِ ابلاغ کو اوول آفیس میں آنے کی اجازت ہے جب کہ دونوں لیڈر مختصر بیان بھی جاری کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گِبزنے مختصراً متوقع بات چیت کے موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے لیے اسرائیل کی پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں کا اطلاق، علاقائی سلامتی، اسرائیل فلسطین میں با لواسطہ بات چیت اور براہِ راست مذاکرات کے جلد انعقاد کی ضرورت ، اور توقع ہے کہ یہ وہ موضوعات ہیں جِن پر ملاقات میں تبادلہٴ خیال ہوگا۔

اوباما انتظامیہ نے غزہ کی تین برس سے جاری ناکہ بندی میں نرمی کرنے کے اسرائیلی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور وزیرِ اعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی بات چیت کا محور اِس طریقہٴ کار کا جائزہ لینا ہے کہ بالواسطہ مذاکرات کو کیونکر براہِ راست بات چیت میں بدل دیا جائے۔

نیشنل سکیورٹی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے سینئر ڈائریکٹر ڈین شپیرو نے گذشتہ ہفتے رپورٹروں کو بتایا تھا کہ امریکہ کے خصوصی نمائندے جارج مچل کی بات چیت کا پانچواں دور اگرچہ کامیاب رہا ہے لیکن دو مملکتی ریاست کے حل کے لیے یہ سمجھوتا براہِ راست مذاکرات ہی میں ممکن ہو سکتا ہے۔

صدر اوباما کے قومی سلامتی کے مشیر برائے اسٹریٹجک کمیونیکیشنز، بین رہوڈز نے کہا ہے کہ صدر کا خیال ہے کہ تمام فریقوں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ وہ آگے بڑھنے کا موقع تلاش کریں۔

اسرائیلی کابینہ کے ساتھ اتوار کے روز ایک اجلاس میں وزیرِ اعظم نتن یاہو نے کہا کہ اُنھین امید ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں فلسطینیوں سے براہِ راست بات چیت کے موضوع پر پیش رفت ہو سکے گی۔

وائٹ ہاؤس میں ہونے والی بات چیت میں مشرقِ وسطیٰ میں امن کے وسیع تر حصول پر بھی توجہ دی جائے گی جِس میں اسرائیل اور ہمسایہ ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا اور اسرائیل، شام اور لبنان کے درمیان سمجھوتوں کے لیے کوشش کرناجیسے امور شامل رہیں گے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے خطرے کو امریکہ، اسرائیل اور دوسرے ممالک کیسے دیکھتے ہیں۔ یہ موضوع بھی مذاکرات میں شامل ہوگا۔

جہاں تک امریکہ اسرائیل تعلقات میں کسی کشیدگی کا سوال ہے جو گذشتہ مارچ میں مسٹر نتن یاہو کے دورہٴ واشنگٹن کے دوران قیاس آرائیوں کا موجب تھا ، اوباما انتظامیہ کے عہدے داروں کا اصرار ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ اِس کے برعکس، وہ کہتے ہیں کہ اوباما انتظامیہ اور اسرائیل نے تعاون کو تقویت دینے کے لیے کئ اقدامات کیے ہیں جِن میں رہوڈز اور شپیرو کے بقول، فوج کے درمیان مشاورت اور انٹیلی جنس کے تبادلے سے تعلقات گہرے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG