رسائی کے لنکس

صدر اوباما نتن یاہو ملاقات اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن

  • مریڈتھ بیول
  • آمنہ خان

صدر اوباما آج وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو سے ملاقات کررہے ہیں۔ یہ ملاقات مئی میں غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے ایک بحری جہاز پر اسرئیلی کمانڈوز کے مہلک حملے کے بعد ترکی اور اسرایئل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی ثالشی میں اسرائیل فلسطین امن مذاکرات کے پس منظر میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔سیاسی مبصرین کی اس ملاقات کوبہت اہمیت دے رہے ہیں۔

غزہ کی جانب امدادی بحری جہاز پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے کے خلاف یورپ، امریکہ اور مشرق وسطی میں بہت مظاہرے ہوئے۔ اس واقعے کے بعد بین الاقوامی کمیونٹی کی نگاہیں ایک مرتبہ پھرغزہ کی پٹی کی طرف متوجہ ہوئیں، جہاں اسرائیلی ناکہ بندی جاری ہے۔

امریکہ نے امدادی جہاز پر اسرائیلی حملے کی مذمت تونہیں کی تاہم صدر اوبامانے غزہ میں انسان دوست اصولوں کی پامالی کے حوالے سے فلسطینی صدر ٕمحمود عباس سے گفتگو ضرور کی۔

صدر کا کہنا تھا کہ تمام حقائق کو سامنے لانا بہت ضروری ہے۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ غزہ میں موجودہ صورت حال ناقابل برداشت ہے۔

اس صورت حال کی وجہ سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو خطرہ تھا، لیکن مشرق وسطی کی جانب امریکہ کے خصوصی مندوب جارج مچل نے صدر اوباما اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نتن یاہوکی ملاقات سے قبل تعلقات کا یہ سلسلہ بحال کروا دیا ہے۔ فلسطینی حکومت نے ان مذاکرات کے اختتام کےلیے ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

یورنیورسٹی آف میری لینڈ کے تجزیہ کار شبلی تلہامی کہتے ہیں کہ لوگوں کو واضح طور پر اس سیاسی عمل سے یہ توقع ہے کہ اس کے ذریعے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تعلقات استوار کیے جا سکیں گے۔ لوگوں کو یہ احساس ہے کہ دو ریاستی منصوبے کو عمل میں لانے کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مستحکم کرنے کے اس منصوبے کی تکمیل صدر اوباما کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آبادکاری روکنے کے لیے اسرائیل پر دباو بھی ڈالا ہے، جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کچھ کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کی صدارت میں اب تک امن کی جانب کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی پر حماس کا قبضہ اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سےمتاثر نہیں ہوا ہے۔ لیکن غزہ کی ناکہ بندی جاری رکھنے کے لیے اسرائیلی کمانڈوز نے امدادی بحری جہاز پر جو حملہ کیا، اس کی وجہ سے ترکی اور اسرائیل کے دوستانہ تعلقات میں شگاف ضرور پڑ گیا۔

شبلی تلہامی کہتے ہیں کہ ترکی مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں تناؤ کی وجہ سےاس علاقے میں صورت حال بدل گئی ہے۔

بحری جہاز پر اسرائیلی حملے کے بعد ترکی نے اسرائیل کی جانب اپنے سفیر کو واپس بلا لیا، اور اسرائیل سے اس حادثے کے لیے معذرت کے علاوہ ہلاک ہونے والوں کے وارثوں کے لیے معاوضے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی نے اسرائیل سے غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کو بھی کہاجس کے جواب میں اسرائیل نے اس علاقے میں سامان کی آمد و رفت پر لگائی گئی کچھ پابندیاں ختم کردی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کی جانب ترکی کی حکمت عملی میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔

تجزیہ کار ڈینیئل پلیٹکا کا کہنا ہے کہ ترکی نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ یورپی یونین نہیں، بلکہ مشرق وسطی کی جانب اپنی سمت کا تعین کرنا چاہتا ہے ۔ اس علاقے میں بھی اس کا رجحان شام اور ایران جیسے ملکوں کی جانب ہے، ان ملکوں کی جانب نہیں جو ہمارے ساتھی ہیں۔ ہمیں بحری جہاز کے واقعے کا جائزہ بھی اسی پس منظر میں لینا چاہیے۔

ماہرین کو یہ توقع ہے کہ صدر اوباما اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہواس ملاقات کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کریں گے۔

XS
SM
MD
LG