رسائی کے لنکس

صدر اوباما کو نئے چیلنجز کا سامنا


صدر اوباما کو نئے چیلنجز کا سامنا

صدر اوباما کو نئے چیلنجز کا سامنا

صدر اوباما کو اندرون ملک معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا تو تھا ہی مگر بین الاقوامی چیلنجز میں مشرقِ وسطی کی صورتِ حال نے ان میں مزید اضافہ کر دیا۔ اس وقت اوباما انتظامیہ کے لیے سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں مصر کی حکومت کون بنائے گا؟ خطے میں امریکی مفادات کا مستقبل کیا ہوگا؟ اور کیا اس کے بعد خطے کی صورتِ حال مستحکم رہ سکے گی؟

براک اوباما صدارت کے دو سال مکمل کر چکے ہیں۔ملکی معیشت ابھی تک بدحالی کا شکار ہے ، بے روزگاری کی شرح بلند سطح برقرار ہے۔ اور اب کانگریس میں ری پبلکن اکثریت نے ان کے سیاسی مسائل کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ پروفیسر سٹیفن وین کا تعلق جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے ہے۔ وہ امریکہ کی صدارت کے موضوع پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر اوباما کا سب سے بڑا سیاسی چیلنج یہ ہو گا کہ وہ ویسا ہی کریں جیسا بل کلنٹن نے کیاتھااور وہ یہ کہ وہ اپنی پالیسیوں کو معتدل بنائیں اور خاموشی سے یا واضح طور پر کانگریس میں ری پبلکنز اور اب زیادہ قدامت پسند سوچ کی سینیٹ کے ساتھ مل کر کام کریں ۔سٹیفن وین کے مطابق صدر اوباما معیشت کی بہتری کے لیے جو کچھ کر سکتے تھے وہ کر چکے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ صدر اوباما نے جب معاشی پیکج کا اعلان کیا تو ان کا خیال تھا کہ اس سے صارفین کی قوتِ خرید بڑھے گی اور مارکیٹ میں پیسہ واپس آئے گا مگر ایسا نہ ہو سکا۔

کینٹ ہیوز وڈرو ولسن سینٹر میں عالمی معاشی امور کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر اوباما 2012ءکے انتخابات سے پہلے معیشت کو کھڑا کر سکتے ہیں اور اس کے لیے انہیں اس پالیسی اور طریقہ کار کو ترک کرنا ہو گا جس کی وجہ سے تجارت اور بجٹ میں خسارہ ہوا ہے۔ اور اگر صدر اوباما G-20 کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کر لیں جس سے بجٹ منافع کے حامل ملک مقامی منڈیوں پر زیادہ انحصار کریں اور برآمدات پر کم ، جبکہ امریکہ برآمدات پر توجہ دے اور ملک کے اندر جن مصنوعات کی زیادہ کھپت ہے انہیں ملک کے اندر بنایا جائے۔ ایسا ہو جائے تو خود بخود سرمایہ کاری ، ایجادات اور بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا کرنے کے مواقع بڑھیں گے۔

صدر اوباما انتخاب جیتنے سے پہلے ہی عالمی سطح پر بہت مقبول ہو چکے تھے اور انہوں نے کئی عالمی مسائل حل کرنے کو اپنی ترجیح قرار دیا تھا۔ صدر بننے سے پہلے انہوں نےتین پیچیدہ معاملات کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ان کے حل کے لیے کام کریں گے۔ وہ تھے عرب اسرائیل تنازعہ، ایران کی صورتِ حال اور شمالی کوریا۔ سٹیفن وین کہتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی مسئلہ کسی بھی صورت میں حل کی طرف نہیں بڑھا۔

صدر اوباما کے لیے سب سے بڑا عالمی چیلنج اب بھی افغان جنگ ہے۔ امریکہ دس سال سے یہ جنگ لڑ رہا ہے۔ 2010ء افغانستان میں ایک پرتشدد سال تھا۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے مائیکل او ہینلن کہتے ہیں کہ 2011ء افغان جنگ کے لیے فیصلہ کن سال ہو گا۔ ان کے مطابق ہر گزرنے والے سال کے ساتھ طالبان تسلسل سے مضبوط ہو رہے ہیں۔ 2010ء میں بھی تشدد کے واقعات میں کافی حد تک اضافہ ہوا۔ ان میں سے کچھ واقعات سمجھ میں آتے ہیں کیونکہ ہم نے نئے علاقوں میں فوج بھیجی۔ لیکن تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا رہا ۔اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری افغان حکمتِ عملی کام کر رہی ہے تو تشدد جاری نہیں رہ سکتا۔

او ہینلن کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کا اتحاد برقرار رہے گا کیونکہ امریکہ افغان جنگ، دہشت گردی سے نمٹنے اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہونے کی وجہ سے کسی صورت پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی طرف سے کرائے گئے رائے عامہ کے تازہ ترین جائزے کے مطابق ملک میں صدر اوباما کی مقبولیت کا گراف اس وقت اکاون فیصد ہے۔ جائزے میں کہا گیا ہے کہ امریکی عوام معیشت کو بہتر کرنے کے لیے صدر کی کوششوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ جبکہ معیشت ہی وہ چیلنج ہے جو 2012 ءکے انتخابات کافیصلہ کرے گا۔

XS
SM
MD
LG