رسائی کے لنکس

نگرانی کا پروگرام، اوباما کا شفافیت اپنانے پر زور


اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

اخباری کانفرنس سے خطاب میں، صدر اوباما نے کہا کہ وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ انٹیلی جنس برادری نگرانی کے پروگرام کا جائزہ لے اور امریکیوں کی سلامتی اور اُن کے نجی معاملات میں ضروری توازن پیدا کیا جائے

صدر براک اوباما نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک کو دہشت گرد حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے، سرکاری نگرانی کے پروگرام پر مزید چو کسی رکھی جائے گی۔

جمعہ کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں داخلی اور بین الاقوامی امور کا وسیع تر احاطہ کرتے ہوئے، مسٹر اوباما نے کہا کہ امریکہ ’مزید شفاف ہو سکتا ہے، اور ایسا ہی کرنا ہوگا‘۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ اُنھیں یقین ہے کہ نگرانی کے پروگرام کا غلط استعمال نہیں کیا جا رہا، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ساتھ ہی، یہ بات ضروری ہے کہ امریکی عوام کو اس پروگرام پر اعتماد ہو۔

اُنھوں نے وعدہ کیا کہ پروگرام کے عمل درآمد کے انداز میں تبدیلیاں لائی جائیں گی، جن میں کانگریس کی طرف سے موجودہ قوانین کا جائزہ لینا اور سرکاری نگرانی کے اختیارات کا جائزہ لینے کے لیے مشاورتی پینل تشکیل دینا شامل ہے۔

اخباری کانفرنس کے دوران، مسٹر اوباما نے امریکی انٹیلی جنس کے سابق اہل کار، ایڈورڈ اسنوڈن کے معاملے پر بات کی، جس نے سرکاری نگرانی کے پروگرام کی وسعت کا انکشاف کیا، جس میں ٹیلی فون کالز اور انٹرنیٹ کے استعمال کا مشاہدہ کرنے کے پروگرام شامل ہیں۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اسنوڈن ایک محب وطن ہے، جس نے روس سے عارضی سیاسی پناہ حاصل کرلی ہے، اور اس وقت روس میں ہے۔

صدر نے کہا کہ جون میں اسنوڈن کی طرف سے نگرانی کے خفیہ پروگرام کی دستاویزات افشا کرنے اور نامہ نگاروں کی طرف سے اُس کی تشہیر سے بہت پہلے، وہ خفیہ نگرانی کے پروگرام کا جائزہ لینے کے احکامات صادر کر چکے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ اِس بات کے خواہاں ہیں کہ انٹیلی جنس برادری نگرانی کے پروگراموں کا جائزہ لے اور امریکیوں کی سلامتی اور اُن کی نجی زندگی سے متعلق ضروری توازن پیدا کیا جائے۔

اِس ضمن میٕں، صدر نے اقدامات کا ایک سلسلہ جاری کرنے کا اعلان کیا، تاکہ امریکیوں کی نجی زندگی کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

اُن کے بقول، اِن نئے اقدامات کے نتیجے میں ’شفافیت‘ کے عنصر کو فروغ ملے گا، اور سرکاری نگرانی کے پروگرام میں عام آدمی کا اعتماد بحال ہوگا۔

صدر نے اِس بات کو واضح کیا کہ امریکہ کو ’عام آدمی کی جاسوسی‘ سے کوئی سرو کار نہیں۔

اِس کے برعکس، اُنھوں نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس اس بات پر مرکوز ہے کہ ایسی اطلاعات پر نگہ رکھی جائے جس سے امریکی عوام اور امریکی اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ ہو۔

جب اُن سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ سربراہ اجلاس میں شرکت کو منسوخ کرنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو مسٹر اوباما نے کہا کہ روس کے ساتھ اُس وقت سے لے کر کچھ تناؤ رہتا چلا آیا ہے جب دو عشرے قبل سوویت یونین کا خاتمہ ہوا۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ اُن کے روسی صدر کے ساتھ تعلقات خراب نہیں۔

سربراہ اجلاس کی منسوخی کے بارے میں وائٹ ہاؤس متعدد معاملات کی نشاندہی کر چکا ہے، جس میں روس کی طرف سے سنوڈن کو سیاسی پناہ دیے جانے کا معاملہ شامل ہے۔

جمعے کی اخباری کانفرنس میں مسٹر اوباما نے اس سے قبل دیے گئے اپنے بیان کا اعادہ کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ القاعدہ کے دہشت گرد نیٹ ورک کو ’ملیا میٹ‘ کردیا گیا ہے۔

تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ دہشت گرد گروہ اور دیگر انتہا پسند‘ اب علاقائی گروہوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جو ’انتہائی خطرناک‘ ثابت ہو سکتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG