رسائی کے لنکس

امریکہ کے صدر براک اوباما نے نئے ایرانی سال کے آغاز 'نوروز' کے موقع پر اپنے پیغام میں ایرانی حکومت کی جانب سے عائد نشریاتی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

منگل کو جاری کیے جانے والے اپنے ویڈیو پیغام میں صدر اوباما نے ایرانی حکومت کی پابندیوں کو ایران کے گرد کھینچی گئی 'الیکٹرانک دیوار' سے تشبیہ دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ عالمی برادری کی توجہ اس دیوار کی جانب مبذول کراتا رہے گا جو ، ان کے بقول، " معلومات اور نظریات کی ایران تک آزادانہ ترسیل میں ایک رکاوٹ ہے اور جس نے ایرانی عوام کو باقی دنیا سے کاٹ رکھا ہے"۔

صدر اوباما نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے اندر ایسے سافٹ ویئر اور خدمات فراہم کرنے کے لیے امریکی کاروباری اداروں کی رہنمائی کر رہی ہے جس کے ذریعے ایرانی باشندوں کو انٹرنیٹ کا آزادانہ استعمال کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔

اپنے پیغام میں امریکی صدر نے ایرانی عوام کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ان کے خیالات سے آگاہی اور ان کی خواہشات کی تفہیم کے لیے ان کے ساتھ براہِ راست مکالمے کا خواہاں ہے۔

ایرانی باشندوں نے 'نوروز' کے موقع پر جاری کردہ صدر اوباما کے پیغام پر ملا جلا ردِ عمل ظاہر کیا ہے جب کہ کئی افراد نے امریکی صدر کے خلوصِ نیت پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

ایرانی تقویم کا یہ اہم تہوار رواں برس ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب تہران کی جوہری سرگرمیوں کے تنازع پر دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی عروج کو پہنچی ہوئی ہے۔

امریکہ اور مغربی ممالک کا اصرار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن تہران حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG