رسائی کے لنکس

سربراہی کانفرنس، عظیم ترقی کا دِن: اوباما


اُنھوں نےانتباہ کیا کہ جوہری حملے کاخطرہ بڑھ چکا ہےکیونکہ القاعدہ جیسےدہشت گردگروپ جوہری مواد کےحصول کےلیےکوشاں ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں بین الاقوامی جوہری سربراہی اجلاس میں شریک تمام کے تمام 47ملکوں نے اِس بات سے اتفاق کیا ہے کہ وہ جوہری دہشت گردی کے امکان کا مقابلہ کرنے کے لیے چار سال کے اندر اندر تمام کے تمام جوہری مواد کو محفوظ کرلیں گے۔

صدر اوباما نے دو روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر ایک تقریر میں کہا ہے کہ اجلاس میں شریک لیڈروں نے اِس خطرے کی فوری اہمیت اور سنگین نوعیت سے اتفاق کیا ہے اور خطروں کو سمجھنے کے لیے ایک مشترکہ راستہ اختیار کیا ہے۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ چار سال کے اندر اندر جوہری مواد کو محفوظ کرلینے کا ہدف جراٴت مندانہ اور حقیقت پسندانہ ہے، لیکن اِسے پورا کیا جا سکتا ہے۔

اُنھوں نے سربراہی اجلاس کو ‘عظیم ترقی کا دِن’ قرار دیا، اور کہا کہ سربراہی اجلاس میں جو پیش رفت ہوئی وہ ایک جوہری اسلحہ سے پاک دنیا کے حصول کے لیے ایک زیادہ بڑی کوشش کا حصہ ہے۔

اجلاس سے باہر ملاقاتوں کے دوران مسٹر اوباما اور امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نےایران کے جوہری پروگرام کے خلاف بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی مہم کو جاری رکھا۔

وزیرِ خارجہ کلنٹن نے منگل کے روز روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف کے ساتھ ایک معاہدے پربھی دستخط کیے جِس کا مقصد دونوں ملکوں کے دفاعی پروگراموں سے اسلحہ سازی کے قابل پلوٹونیم کی زائد مقدار کو خارج کر دینا ہے۔

کلنٹن نے کہا کہ یہ مواد 17000جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہے۔

لاروف نے کہا کہ پلوٹونیم کو ٹھکانے لگانے پر روس کو ڈھائی ارب ڈالرکے اخراجات اُٹھانا ہوں گے۔

پیر کو سربراہی اجلاس کے آغاز سے پہلے، مسٹر اوباما نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں لگانے کے لیے چینی صدر جِن تاؤ سے حمایت کا وعدہ لے لیا تھا۔ لیکن منگل کو چین نے اِس بات پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو جاری رکھنا چاہتا ہے، اور سفارت کاری کی ناکامی کی صورت میں ہی پابندیوں کی حمایت کرے گا۔

مسٹر اوباما ، منگل کے ہی روز ترکی کے وزیرِ اعظم رجب طیب اُردوان، ارجنٹینا کی صدر کرسٹینا فرنینڈز ڈی کرشنر اور جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل کے ساتھ علاحدہ بغیر وفود کے ملاقات کرنے والے ہیں۔

ایران، شمالی کوریا اور شام نے اپنے مشتبہ جوہری پروگرام پر سربراہی اجلاس میں نہ بلائے جانے پر مغرب پر نکتہ چینی کی۔

پیر کےروز مسٹر اوباما نے یوکرین کے صدر وِکٹر یکونووچ سے بات چیت کی۔ بعد میں کیے گئےوائیٹ ہاؤس کے اعلان کے مطابق 2012ء تک یوکرین انتہائی درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے چھٹکارہ حاصل کرے گا۔

کینڈا کے وزیرِ اعظم سٹیون ہارپر نے اعلان کیا کہ کنیڈا دہشت گروں کی دست رس سےدور رکھنے کی خاطر، افزودہ یورینیم کی بڑی مقدار امریکہ کولوٹا دے گا۔

XS
SM
MD
LG