رسائی کے لنکس

کلنٹن حکومت کا تجربہ رکھتی ہیں، بہتر امیدوار ہیں: اوباما


فلاڈیلفیا

فلاڈیلفیا

پہلی بار اوباما نے کلنٹن کے لیے تنہا انتخابی مہم چلائی، جو علالت کے باعث نیو یارک میں آرام کر رہی ہیں، جو اس ہفتے کے آخر میں اپنی انتخابی مہم دوبارہ شروع کریں گی

امریکی صدر براک اوباما نے منگل کے روز اپنے جانشین کے طور پر اپنی سابقہ وزیر خارجہ، ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن کی کھل کر حمایت کی، ایسے میں جب وہ نمونیا کے باعث علیل ہیں۔

بارش کے بعد فلاڈیلفیا کے مشرقی شہر میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، اوباما نے کہا کہ ’’میں ہیلری کلنٹن کو منتخب کروانا چاہتا ہوں‘‘۔ فلاڈیلفیا ڈیموکریٹک پارٹی کا ایک گڑھ رہا ہے جہاں آٹھ نومبر کو ری پبلیکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف الیکشن جیتنے کے لیے کلنٹن چاہیں گی کہ کثیر تعداد میں ووٹر رائے دہی میں حصہ لیں۔
اوباما نے کہا کہ ’’میں نے دیکھا ہے کہ وہ کتنی سمجھدار، لائق و فائق اور سخت گیر ہیں۔ میں چار برسوں تک اُن کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتا رہا ہوں‘‘۔ اوباما یہ بات کسی وقت اُن کی سیاسی مخالف کے لیے کہی، جو 2009ء سے 2013ء تک ملک کی چوٹی کی سفارت کار رہ چکی ہیں۔

اوباما نے ٹرمپ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ’’وہ کسی طور پر، کسی صورت اور حیثیت میں بیرون ملک نمائندگی کے قابل نہیں، ناہی ہمارے کمانڈر اِن چیف بننے کے قابل ہیں‘‘۔

ٹرمپ کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو سراہنے پر، اُنھوں نے اُن کا مذاق اڑایا، جنھوں نے پیوٹن کو ’’ایک مضبوط رہنما‘‘ قرار دیا، چونکہ، بقول اوباما، ’’وہ چھوٹے ملک فتح کرتے ہیں، اپنے مخالفین کو جیلوں مین ڈالتے ہیں، صحافت کو کنٹرول کرتے ہیں، اور اپنے ملک کی معیشت کو طویل کساد بازاری میں مبتلہ کرتے ہیں‘‘۔

صدر نے مزید کہا کہ ’’مجھے پیوٹن کے ساتھ کاروبار کرنا پڑتا ہے۔ مجھے روس کے ساتھ کاروبار کرنا پڑتا ہے۔ یہ خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔ لیکن، میں یہ نہیں کہتا پھرتا کہ وہ میرے رول ماڈل ہیں‘‘۔

پہلی بار اوباما نے کلنٹن کے لیے تنہا انتخابی مہم چلائی، جو علالت کے باعث نیو یارک میں آرام کر رہی ہیں، جو اس ہفتے کے آخر میں اپنی انتخابی مہم دوبارہ شروع کریں گی۔

ٹرمپ نے آئیوا کی وسط مغربی ریاست میں انتخابی مہم میں حصہ لیا، جہاں اُنھوں نے وعدہ کیا کہ وہ دیگر ملکوں سے روزگار واپس لے آئیں گے، جہاں امریکی کارپوریشنوں نے سستی مزدوری اور زیادہ منافعے کی خاطر ملازمتیں منتقل کر دی ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’’وقت آگیا ہے کہ نئی خوش حالی کا دامن تھاما جائے، اور میری مراد فی الحقیقت خوشحال امریکہ سے ہے‘‘۔

اُنھوں نے اس عہد کو دہرایا کہ وہ ’’ہر ایک کے صدر‘‘ بنیں گے۔ اُنھوں نے کلنٹن پر تنقید کی جنھوں نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ٹرمپ کے حامی ’’شرمناک افراد کی ٹوکری‘‘ ہے۔

XS
SM
MD
LG