رسائی کے لنکس

ایک ایسے وقت میں جب کہ گاڑیاں رکھنے والے امریکیوں کو تیل کی اونچی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے، صدر براک اوباما آئل مارکیٹ کی سازباز کے خلاف حکومت کو کارروائی کرنے کے لیے کہنے کی تیاری کررہے ہیں۔

مسٹر اوباما منگل کو کانگریس سے یہ کہنے والے ہیں کہ وہ آئل مارکیٹ کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے پانچ کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی منظوری دے۔

وہائٹ ہاؤس کا کہناہے کہ اس غیر قانونی ہنرمندی، دھوکہ دہی اورمارکیٹ کی جعل سازی کاراستہ روکنے کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے ۔

امریکہ میں اکثر افراد کا گاڑیوں کے بغیر گذارہ مشکل ہے اور یہاں اب اکثر لوگ تیل کی اونچی قیمتوں کی شکایت کرتے دکھائی دے رہے ہیں جن کا کہناہے کہ انہیں پٹرول خریدنے کے لیے معمول سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

اگرچہ امریکہ میں پٹرول کی قیمت کئی ملکوں کے مقابلے میں کم ہیں لیکن عمومی امریکی معیار سے کہیں زیادہ ہیں۔ اور ایک ایسے وقت میں، جب مسٹر اوباما اپنے عہدے کی دوسری مدت کے لیے انتخاب میں حصہ لینے جارہے ہیں، تیل کی مہنگائی ایک اہم سیاسی مسئلہ بن رہی ہے۔

امریکہ میں منگل کے روز نیویارک کی مارکیٹ میں تیل کے سودے 104 ڈالر فی بیرل پر ہوئے جو اس سال پانچ فی صد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے کئی اسباب ہیں جن میں متنازع جوہری پروگرام کے باعث ایرانی تیل پر پابندی کے نتیجے میں مغربی ممالک میں پیدا ہونے والی پریشانی بھی شامل ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ آیا کانگریس تیل کے کاروبار کو منظم بنانے کے لیے مزید اقدامات کی منظوری دے گی یا نہیں کیونکہ ڈیموکریٹ صدر ، ری پبلیکن حزب اختلاف کو آئل کمپنیوں کے لیے مراعات ختم کرنے پر قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG