رسائی کے لنکس

صدر اوباما کی صدارت کا ایک سال

  • جم میلون

صدر اوباما کی صدارت کا ایک سال

صدر اوباما کی صدارت کا ایک سال

ایک سال پہلے جب باراک اوباما نے امریکہ کے چوالیسویں صدر کا حلف اٹھایا تو ان کی مقبولیت آسمان کو چھو رہی تھی ۔ لیکن سیاسی اعتبار سے ان کا پہلا سال مشکل ثابت ہوا ہے ۔ علاج معالجے کے نظام میں اصلاح کے لیے ان کی کوششوں نے ان کے دائیں بازو کے مخالفین کو متحد کر دیا ہے جب کہ ان لبرل حامیوں کو شکایت ہے کہ وہ بڑی جلدی سمجھوتے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں ۔

باراک اوباما نے اپنی صدارت کا آغاز بڑی امیدوں اور تبدیلیوں کی توقعات کے ساتھ کیا تھا لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انہیں اپنے پیشرو ، جارج ڈبلیو بُش سے بعض انتہائی مشکل مسائل ورثے میں ملے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا’’آج میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمیں جو مسائل ورثے میں ملے ہیں وہ بڑ ے سنگین ہیں اور تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔ ہم ان کا سامنا آسانی سے یا مختصر وقت میں نہیں کر سکیں گے ۔ لیکن میں امریکیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ انہیں حل کیا جائے گا۔‘‘
ان مسائل میں کمزور ملکی معیشت، عراق اور افغانستان میں جاری جنگیں اور علاج معالجے کے نظام میں اصلاح کا قانون بنانا شامل تھے ۔ مسٹر اوباما کی صدارت کے پہلے سال کے آخری دنوں میں ہیٹی میں ہولناک زلزلہ آیا اور دہشت گردی کے خطرے نے ایک بار پھر سر اٹھایا۔
باراک اوباما کی صدارت کے آغاز میں ان کی مقبولیت عروج پر تھی لیکن حالیہ مہینوں میں اس میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ Quinnipiac University کے رائے عامہ کے جائزے کے مطابق 45 فیصد امریکی ان کی پہلے سال کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور اتنے ہی امریکی غیر مطمئن ہیں۔ Quinnipiac University کے پولسٹر پیٹر براؤن کہتے ہیں’’لوگ ذاتی طور پر اوباما کو پسند کرتے ہیں۔ وہ انہیں دیانتدار اور قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں وہ قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ لیکن لوگ کہتے ہیں کہ وہ صدر سے ان مسائل کے بارے میں متفق نہیں جو اُن کے لیے اہم ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ معیشت کے مسئلے پر زیادہ توجہ دیں۔ وہ ہیلتھ کیئر کے مسودہ قانون کو پسند نہیں کرتے۔‘‘
کانگریس کے ڈیموکریٹک ارکان کی مدد سے علاج معالجے کے نظام میں اصلاح کے لیے مسٹر اوباما نے جس مستعدی سے کوشش کی اس نے امریکی سیاست میں ان کے مخالف عناصر کو متحد کر دیا۔ اصلاحی اقدامات کی بھاری لاگت اور نجی شعبے میں حکومت کی ممکنہ مداخلت کے اندیشے نے قدامت پسند عوام میں ناراضگی کا جذبہ بیدار کر دیا۔ نومبر میں امریکی کانگریس کے جو وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں ان میں ریپبلیکنز کو ان جذبات سے مدد مل سکتی ہے ۔ سینیٹ میں ریپبلیکن لیڈر ریاست Kentucky کے سینیٹر Mitch McConnell کہتے ہیں’’مجھے قوی امید ہے کہ کافی تعداد میں ڈیموکریٹس جاگ اٹھیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں علاج معالجے کے نظام میں اصلاح کے قانون کو زبردستی امریکیوں پر نہیں ٹھونسنا چاہِیئے ۔ یہ خود سری اور تکبر کی انتہا ہوگی۔‘‘
بعض لبرل ارکان کو مایوسی ہوئی ہے کہ مسٹر اوباما نے ہیلتھ کیئر بل میں بہت زیادہ سمجھوتے کر لیے ہیں اور 30 ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شہری حقوق کے لیڈرجولیان بونڈ Julian Bond کہتے ہیں کہ ڈیموکریٹس نے باراک اوباما سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لی تھیں۔ ان کا کہنا ہے’’کسی کو بھی یہ توقع نہیں تھی کہ یہ شخص جسے دو جنگیں ورثے میں ملی تھیں، جسے مالیاتی نظام میں خلفشار ورثے میں ملا تھا، جسے اتنے سارے مسائل ورثے میں ملے تھے، ان سب مسائل کو پلک جھپکتے میں حل کر دے گا۔ میرے خیال میں اس قسم کی سوچ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
صدر اوباما کے عہد ِ صدارت کے پہلے سال کے بارے میں تجزیہ کاروں کی رائے ملی جلی ہے ۔لیری سباتو یونیورسٹی آف ورجینیا میں Center for Politics کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’حالات جتنے زیادہ خراب تھے ان کو دیکھتے ہوئے کہنا پڑے گا کہ ان کی کارکردگی خاصی اچھی رہی ہے خاص طور سے ایسے شخص کے لیے جسے حکومت چلانے کا اتنا کم تجربہ ہے ۔ ذرا سوچیئے کہ وہ امریکی سینیٹ میں صرف چند سال رہے ہیں اور اس کے علاوہ ان کے پاس صرف ایک اور سیاسی عہدہ رہا ہے، اور وہ ہے ریاست الی نوائے کے سینیٹ کے رکن کا عہدہ۔‘‘

بیشتر ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ نومبر کے انتخاب میں ریپبلیکنز کو امریکی کانگریس میں کچھ مزید نشستیں مِل جائیں گی ۔ ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ڈیموکریٹک اکثریت کم ہونے کی وجہ سے مسٹر اوباما کو قدامت پسند ڈیموکریٹس اور اعتدال پسند ریپبلیکنز کی طرف ہاتھ بڑھانے پر مجبور ہونا پڑے گا تا کہ کوئی سیاسی اتحاد بنایا جا سکے جس کی حمایت سے اگلے چند برسوں کے دوران امریکی کانگریس میں قوانین منظور کرائے جا سکیں۔

XS
SM
MD
LG