رسائی کے لنکس

امریکی اقدام سے پہلے رواں ہفتے ہی یورپی یونین اور کینیڈا نے بھی ایسی ہی تعزیرات عائد کی تھیں۔

صدر براک اوباما نے روس کے حصے جزیرہ نما کرائمیا پر ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے وسیع تجارتی پابندی عائد کر دی ہے جس کے تحت امریکی اشیا کی برآمد اور کرائمیا کی درآمدات پر پابندی ہوگی۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ حکم "خطے میں کاروبار کرنے والی امریکی کارپوریشنز کے لیے امریکہ کا موقف واضح کرنے کے لیے ہے۔" مزید برآں ایک مقصد اس امر کا اظہار بھی ہے کہ واشنگٹن کرائمیا پر " روس کا تسلط تسلیم نہیں کرے گا۔"

اس پابندی کے تحت ان 24 افراد اور کمپنیوں پر تعزیرات عائد کی گئی ہیں جن کے بارے میں یہ شناخت ہوئی تھی کہ وہ مشرقی یوکرین کی بدامنی میں حصہ دار ہیں۔

روس کی پارلیمنٹ نے اپریل میں امریکہ اور یورپی یونین کے احتجاج کے باجود کرائمیا کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی منظوری دی تھی۔

امریکی اقدام سے پہلے رواں ہفتے ہی یورپی یونین اور کینیڈا نے بھی ایسی ہی تعزیرات عائد کی تھیں۔

اوباما نے جمعرات کو ایک ایسے بل پر دستخط کیے تھے جس کے تحت مشرقی یوکرین میں روس نواز باغیوں کی حمایت کی پاداش میں ماسکو پر اضافی تعزیرات عائد کرنے کی اجازت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ "یوکرین فریڈم اسپورٹ ایکٹ" کہلانے والے اس قانون سے ان کی انتظامیہ کو یہ سہولت حاصل ہوگی کہ وہ ماسکو کے خلاف نئے اقدامات کر سکے۔

اس قانون کے تحت یوکرین کو 35 کروڑ ڈالر کی فوجی و غیر فوجی امداد دینے کی اجازت بھی ہوگی۔

روس کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس قانون کو ناقابل قبول اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا ماسکو کو اس سے "شدید مایوسی ہوئی ہے۔"

XS
SM
MD
LG