رسائی کے لنکس

ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کی تیاری کی جائے: صدر اوباما


صدر براک اوباما (فائل فوٹو)

صدر براک اوباما (فائل فوٹو)

ایران کے سرکاری ٹی وی پر بتایا گیا کہ تہران اپنے وعدوں کو پورا کرے گا۔ حکام نے گزشتہ ہفتے یہ تجویز دی تھی کہ ان کا ملک اس سال کے اواخر تک ان شرائط کو پورا کر سکے گا۔

صدر براک اوباما نے امریکی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف تعزیرات ہٹانے کی تیاری شروع کرے۔

اتوار کو یہ حکم تمام فریقین کی طرف سے جولائی میں ہونے والے جوہری معاہدے کے ’اڈاپشن ڈے‘ یعنی "یوم نفاذ" پر دیا گیا۔

صدر نے کہا کہ "میں اس اہم پیش رفت کا خیر مقدم کرتا ہوں اور اب ہمیں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہمارے تحفظات کی نشاندہی کرنے والی اس جامع قرارداد کے مکمل نفاذ کے اہم کام پر توجہ دینی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنی طرف سے معاہدے پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا ہے، جس میں سینٹری فیوجز کو ہٹانا، یورینیم کے ذخیرے میں کمی اور اراک میں جوہری ری ایکٹر کے بھاری پانی کی جگہ کنٹریٹ بھرنے کا عمل شامل ہے، یہ سب اس بات کو یقینی بنائے گا کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنا سکے۔

یورپی یونین نے بھی اتوار کو اس قانون سازی کا عمل مکمل کر لیا جو اس کے رکن ممالک کو ایران کے خلاف پابندیاں ختم کرنے کی اجازت دے گا۔

لیکن جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر نے پیش گوئی کی ہے کہ پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک ایران یہ ثابت نہیں کر دیتا کہ وہ معاہدے میں اپنے حصے کی شرائط پر پورا اتر رہا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی پر بتایا گیا کہ تہران اپنے وعدوں کو پورا کرے گا۔ حکام نے گزشتہ ہفتے یہ تجویز دی تھی کہ ان کا ملک اس سال کے اواخر تک ان شرائط کو پورا کر سکے گا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدے کے نتائج آنے والے برسوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔

"ایران اب جوہری معاہدے کے تحت اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور کلی طور پر پرامن انداز میں آگے بڑھنے کو یقینی بنائے گا۔"

امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس، چین اور جرمنی نے ایران کے ساتھ جولائی میں ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے عوض اس پر عائد پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔

XS
SM
MD
LG