رسائی کے لنکس

صدر اوباما کی ویتنام کے نوجوانوں سے ملاقات


Obama Vietnam

Obama Vietnam

ایک نوجوان نے صدر سے عظیم رہنما بننے سے متعلق سوال کیا جس پر اوباما نے کہا کہ تقریب کے شرکا پہلے ہی اس سے زیادہ تیار اور منظم نظر آتے ہیں جتنے وہ اس عمر میں تھے۔

صدر اوباما نے کہا ہے کہ ویتنام کے تین روزہ دورے کے دوران نوجوانوں سے ملاقاتوں کے بعد وہ ملک کے مستقبل کے بارے میں کافی پر امید ہوئے ہیں۔

بدھ کو ہوچی من سٹی میں ایک تقریب میں نوجوانوں سے ذاتی سوال و جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ نوجوانی میں ہمیشہ بہت سنجیدہ نہیں ہوتے تھے۔

تقریب میں صدر نے ینگ ساؤتھ ایسٹ ایشین لیڈرز انیشئیٹیو نیٹ ورک کے 800 ارکان سے خطاب کیا جنہوں نے امریکی جھنڈوں، نعروں اور کھڑے ہو کر تالیوں سے صدر کا استقبال کیا۔

ینگ ساؤتھ ایسٹ ایشین لیڈرز انیشئیٹیو صدر اوباما نے جنوب مشرقی ایشیا کے نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتیں اور رابطے بڑھانے کے لیے 2013 میں شروع کیا تھا۔

صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنی نوجوانی کا کچھ وقت جنوب مشرقی ایشیا کے ملک انڈونیشیا میں گزارا اور اس خطے نے ان کے کردار کی تشکیل کی۔

ایک نوجوان نے صدر سے عظیم رہنما بننے سے متعلق سوال کیا جس پر اوباما نے کہا کہ تقریب کے شرکا پہلے ہی اس سے زیادہ تیار اور منظم نظر آتے ہیں جتنے وہ اس عمر میں تھے۔

’’سب سے پہلے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں آپ کی عمر میں اتنا منظم اور جدید نہیں تھا جتنے آپ سب ہیں۔ جب میں چھوٹا تھا میں نے اپنا بہت وقت ضائع کیا۔ میں ہمیشہ اپنی پڑھائی کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا اور میں لڑکیوں اور باسکٹ بال میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ لیڈر بننے کے بہت سے طریقے ہیں اور نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایسی چیز تلاش کریں جس کے بارے میں وہ بہت پُرجوش ہیں۔

’’آپ دنیا کو اس طرح بدل سکتے ہیں کہ اس سے ہماری بہترین اقدار نظر آئیں ۔۔۔ اور خطے کو مثبت انداز سے بدل سکتے ہیں۔‘‘

تقریب میں امریکہ کے صدارتی انتخابات پر بھی بات چیت کی گئی۔

مونٹانا یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک ویتنامی طالبہ نے صدر سے سوال کیا کہ ان کے خیال میں اگلے پانچ سال میں نئے صدر کے عہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد وہ اور دنیا کہاں ہوں گے۔

اوباما نے کہا کہ وہ جو ہمیشہ کرتے رہے ہیں وہی کرتے رہیں گے، یعنی کم آمدن والے لوگوں کو آگے بڑھنے میں مدد دینا۔

2016 کے صدارتی انتخابات کے نتیجے کے بارے میں ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس میں سے بھی گزر جائیں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ امریکہ کبھی کبھی غلطیاں کرتا ہے مگر بالآخر اپنے راستہ درست کر لیتا ہے۔

’’میرا وعدہ ہے کہ سب ٹھیک ہو گا۔‘‘

ذاتی نوعیت کی اس تقریب سے صدر اوباما کے تین روزہ دورے کا اختتام ہوا جہاں صدر نے پچاس سال سے عائد ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی اٹھائی مگر بعد میں ویتنامی حکومت پر زور دے کر کہا کہ وہ اپنے عوام کے بنیادی شہری حقوق کا احترام کرے۔

دورے کے دوران ویتنام کے ہزاروں شہری صدر اوباما کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے سڑکوں پر جمع تھے جنہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ویتنام اور امریکہ اکٹھے ایک سو سالہ سفر شروع کر رہے ہیں۔

صدر کا اگلا پڑاؤ جاپان میں ہو گا جہاں وہ بدھ کی شب وزیراعطم شنزو ایبے سے ملاقات کریں گے۔

XS
SM
MD
LG