رسائی کے لنکس

عوام نے اپنی ترجیحات واضح کردی ہیں، مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کیا جائے: صدر اوباما


صدر اوباما

صدر اوباما

وسط مدتی انتخابات کے بعد بدھ کو نیوز کانفرنس میں صدر نے کہا کہ روزگار کے مواقع بڑھانے، معیشت اور سکیورٹی میں بہتری لانے اور مالی خسارے کو کم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکیوں کی خدمت انتظامیہ کا اولین فریضہ ہے، اور یہ کہ ووٹروں کے احساسات، تشویش اور ترجیحات کو مد نظر رکھتے ہوئے، مسائل کے حل کے لیے کوششیں تیز کی جائیں گی۔

وسط مدتی انتخابات کے بعد بدھ کووائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس میں اُنھوں نے کہا کہ روزگار کے ذرائع بڑھانے، معیشت اور سکیورٹی کی بہتری اور مالی خسارے کو کم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایک ساتھ بیٹھ کر دونوں پارٹیوں کے رہنما امریکہ کی خدمت کے لیے ٹھوس اقدامات تجویز کریں اور ایک ساتھ کام کریں۔

صدر نے کہا کہ دانش پر کسی کا ٹھیکہ نہیں ہوتا، اور ووٹروں کو یقین دلایا کہ اُن کی رائے پر دھیان مرکوز رکھا جائے گا۔

وسط مدتی انتخاب کے بارے میں سوال پر صدر نے کہا کہ ووٹروں نے تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ بہتر کارکردگی کے لیے ووٹ دیا ہے، جسے مل کر کام کرکے یقینی بنایا جائے گا۔

صدر اوباما نے کہا کہ ‘ہیلتھ کیئر’ کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا، اور خصوصاً عمر رسیدہ لوگوں کو علاج معالجے کے بندوبست کو یقینی بنایا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکی لوگ خسارے میں کمی، روزگار کے بہترمواقع میسر آنےاور اخراجات سے متعلق واضح رائے رکھتے ہیں،اور یہ کہ ہمیں مقابلے والی مارکیٹ معیشت کو جاری رکھنا ہےاورمعاشی افزائش پرمزید زور دینا ہے۔

حکومت کے بڑے سائزکے بارے میں ایک سوال پر اُنھوں نے کہا کہ سارا معاملہ ترجیحات کا ہے جن کا انحصار شفافیت پر ہو۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن کی انتظامیہ اِن معاملات سے بخوبی آگاہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ تعلیم، سائنسی تحقیق، ایندھن کے ذرائع، توانائی اور روزگار کے بہترمواقع پید ا کرنے پر توجہ مرکوز رکھی جانی چاہیئے،جب کہ اخراجات کے عمل کو شفاف رکھا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ متوسط طبقے کے لیے سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔

صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ تب ہی تیزی سے ترقی کرے گا جب چھوٹے کاروبار ترقی کریں، اور معاشی فضا کی اساس مقابلےپرہو۔

اُنھوں نے کہا کہ ‘سیاست کے لیے بہت وقت پڑا ہے،’ اور یہ کہ، اب وقت آگیا ہے کہ سال بھر تک mix and matchکے نسخے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے دونوں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس مل بیٹھ کر ملک کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

صدر نے کہا کہ ٹیکس میں کمی لانا ہی مجرب نسخہ نہیں، بلکہ معیشت کوماضی کی دلدل سے نکالنے کے لیے قرضہ جات، اخراجات اور خسارے میں کمی لانےپرمکمل دھیان دیا جائے۔

اُنھوں نے ری پبلیکنز پر زور دیا کہ وہ معیشت کی بہتری کے بارے میں اپنی تجاویز پیش کریں۔

ایک سوال کے جواب میں صدر نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں معیشت مزید نیچے جانے سے رُک گئی ہے اور مستحکم ہوئی ہے، لیکن مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے شروع کیے گئے ٹھوس اقدامات کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

صدر نے کہا کہ ‘مجھے پورا یقین ہے کہ ہم ایک مضبوط قوم بن کر اُبھریں گے۔’

XS
SM
MD
LG