رسائی کے لنکس

اوباما اور پوتن کا شام کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال


شہری دفاع کے اہکار شام کے شہر حلب میں ایک فضائی کارروائی کے بعد زندہ بچنے والوں کو تلاش کر رہے ہیں۔

شہری دفاع کے اہکار شام کے شہر حلب میں ایک فضائی کارروائی کے بعد زندہ بچنے والوں کو تلاش کر رہے ہیں۔

ٹیلی فون کال کے بارے میں تحریری بیان میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اوباما نے ’’شامی حکومت کو حزب اختلاف پر جارحانہ حملوں سے روکنے کی اہمیت پر زور دیا۔‘‘

ایسے وقت جب شام کے امن مذاکرات میں تعطل کی خبریں گردش کر رہی ہیں، امریکی صدر براک اوباما نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمر پوتن پر زور دیا ہے کہ وہ اسد حکومت پر اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جوش ارنسٹ نے تصدیق کی کہ اوباما کی پوتن کے ساتھ ٹیلی فون پر سیر حاصل گفتگو ہوئی ہے جس میں شام کی صورتحال اور تمام فریقین کی جانب سے جنگ بندی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر بات چیت کی گئی۔

’’صدر پوتن نے کھل عام اس مؤقف کا اظہار کیا ہے کہ (شام ) اور سرحدی علاقوں میں اس قسم کی سیاسی منتقلی روس اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے اور یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں ہمارے مفادات ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔‘‘

ٹیلی فون کال کے بارے میں تحریری بیان میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اوباما نے ’’شامی حکومت کو حزب اختلاف پر جارحانہ حملوں سے روکنے کی اہمیت پر زور دیا۔‘‘

روس کی طرف سے اس ٹیلی فون کال کے بارے میں جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ پوتن نے ’’معتدل حزب اختلاف کو داعش اور جبهة النصرہ سے فوری طور پر دور ہونے اور ترکی اور شام کی سرحد بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا جہاں سے جنگجو اور اسلحہ شام میں شدت پسندوں کو بھیجھے جاتے ہیں۔‘‘

پیر کو بریفنگ میں جوش ارنسٹ نے کہا کہ ’’نازک‘‘ اور ’’خطرے کا شکار‘‘ جنگ بندی کو قائم رکھنا شام میں سیاسی منتقلی کے لیے ضروری ہے۔

دونوں صدور نے یوکرین کے مسئلے پر بھی بات چیت کی جس میں صدر اوباما نے پوتن پر ’’مشرقی یوکرین میں بڑھتے ہوئے تشدد کے خاتمے کے اقدامات‘‘ اور منسک جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد پر زور دیا۔

روس نے کہا ہے کہ پوتن نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ یوکرین میں نئی حکومت نے آنے کے بعد کیف حکام اب منسک معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گے۔

تاہم اس ٹیلی فون کال میں بحیرہ بالٹک میں ہونے والے ایک حالیہ واقعے کا ذکر نہیں کیا گیا جس میں ایک امریکی جنگی بحری جہاز سے 30 فٹ کے فاصلے پر روسی جیٹ طیاروں نے پروازیں کیں۔

ارنسٹ نے کہا کہ اس واقعے کو ماسکو میں امریکی ملٹری اتاشی کی سطح سے آگے نہیں لے جایا گیا جنہوں نے اپنے روسی ہم منصب سے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG