رسائی کے لنکس

وائٹ ہاؤس کے مطابق اوباما نے روس صدر پوٹن پر زور دیا کہ وہ علیحدگی پسندوں کو پیچھے ہٹانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

یوکرین کے مشرقی علاقے میں سرکاری عمارتوں کا قبضہ چھوڑنے والوں کے لیے عام معافی کے اعلان کی مہلت ختم ہونے کے بعد بھی روس نواز مظاہرین بدستور ان عمارتوں پر قابض ہیں۔

یوکرین کے عبوری صدر نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاون کی دھمکی دے رکھی ہے۔

درجنوں مظاہرین نے ہورلیوکا شہر میں پولیس کے ہیڈکوارٹر پر دھاوا بولتے ہوئے عمارت کی کھڑکیاں توڑ دیں اور قبضے سے پہلے ان کی پولیس سے ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

ادھر روس کے صدر ولادیمر پوٹن نے امریکہ کے صدر پر زور دیا کہ وہ یوکرین کی حکومت کو مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی کریں۔

پیر کو صدر اوباما سے فون پر بات کرتے ہوئے روسی صدر نے ان دعوؤں کی تردید کی کہ ان کے ایجنٹس "مظاہروں میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مظاہرے یوکرین کی حکومت کی طرف سے مشرقی علاقوں میں روسی بولنے والے افراد کے مفادات کا تحفظ نہ کیے جانے پر عوام کے غصے کی نتیجہ ہیں۔

کریملن کا کہنا ہے کہ اس فون کال کی انھوں نے درخواست کی تھی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق فون پر کھل کر بات چیت ہوئی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اوباما نے روس پر زور دیا کہ وہ علیحدگی پسندوں کو پیچھے ہٹانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔

"صدر نے زور دیا کہ ملک میں تمام بے قاعدہ فورسز اپنے ہتھیار پھینک دیں اور انھوں نے صدر پوٹن پر زور دیا کہ وہ روس کے حامی مسلح گروپوں کو عمارتوں کو قبضہ چھوڑنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔"

طرفین نے معاملے کا سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ یوکرین کی صورتحال پر یورپی یونین، روس، امریکہ اور یوکرین کے نمائندوں کا اجلاس 17 اپریل کو جنیوا میں ہونے جارہا ہے۔
XS
SM
MD
LG