رسائی کے لنکس

یوکرین کے سفارتی حل پر پوٹن کا اوباما سے رابطہ


فائل

فائل

ٹیلی فون کال کے دوران صدر اوباما اور صدر پوٹن نے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اگلے ’اقدامات پر بات چیت کے لیے‘ بہت جلد ملاقات کریں گے۔

اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے وائٹ ہاؤس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعے کے روز صدر براک اوباما کو ٹیلی فون کیا جس میں یوکرین کے بحران کے سفارتی حل کے لیے مسٹر اوباما کی تجویز پر بات ہوئی؛ اور یہ کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات سےاتفاق کیا کہ اس معاملے پر دونوں ملکوں کے سفارت کار بات چیت کے لیے بہت جلد ملاقات کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں عہدے داروں نے بتایا ہے کہ روسی صدر کے ٹیلی فون سے قبل اِسی ہفتے ہیگ میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور اُن کے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کی ملاقات کے دوران مسٹر کیری نے اس ضمن میں ایک تجویز پیش کی تھی۔

اہل کاروں نے اس تجویز کے بارے میں تفصیل بیان نہیں کی، لیکن بتایا کہ مسٹر اوباما نے مسٹر پیوٹن کو بتایا کہ امریکہ سفارتی حل کا خواہاں ہے جس کے تحت روس کو جزیرہ نما کرائمیا سے فوجیں واپس بلانا ہوں گی اور یوکرین کے دیگر حصوں کو فتح کرنے کی مزید کوششیں ترک کرنی ہوں گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر اوباما نے، جو اس وقت سعودی عرب کے دورے پر، جمعے کے روز روس پر زور دیا کہ وہ اس عمل کی حمایت کرے اور مزید اشتعال انگیزی سے باز رہے، جس میں یوکرین کی سرحد کے ساتھ فوجیں اکٹھی نہ کرنا بھی شامل ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے عہدے داروں نے بتایا کہ ٹیلی فون کال کے دوران مسٹر اوباما اور مسٹر پیوٹن نے اس بات سے اتفاق کیا کہ مسٹر کیری اور مسٹر لاوروف اگلے اقدامات پر بات چیت کے لیے بہت جلد ملاقات کریں گے۔

عہدے داروں نے یہ نہیں بتایا آیا یہ ملاقات کب ہوگی۔

گذشتہ ہفتے مسٹر کیری مسٹر اوباما کے ساتھ یورپ کے دورے پر تھے؛ جب کہ جمعے کو ریاض میں بھی صدر کے ہمراہ تھے، جہاں سعودی شاہ عبداللہ سے صدر اوباما کی ملاقات ہوئی۔
XS
SM
MD
LG