رسائی کے لنکس

صدر اوباما یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر ریپبلکنز نے امیگریشن بل کے حوالے سے رخنہ ڈالنے کی کوشش کی تو صدر اوباما اسے ویٹو کر دیں گے۔

امریکی صدر براک اوباما اتوار کے روز ہوائی میں تعطیلات گزارنے کے بعد واشنگٹن واپس پہنچ رہے ہیں۔

صدر اوباما کے تعطیلات کے لیے ہوائی جانے کے بعد سے واشنگٹن میں سیاسی منظرنامہ بہت حد تک بدل چکا ہے۔ ریپبلکنز کو وسط مدتی انتخابات میں برتری حاصل ہوئی ہے اور اب کانگریس کے دونوں ایوانوں پر ریپبلکنز کا مکمل کنٹرول ہے۔

ریپبلکن قانون سازوں کی اکثریت صدر اوباما کی جانب سے شروع کیے گئے بہت سے اقدامات جیسا کہ صحت ِ عامہ کے لیے صدر اوباما کے ’اوباما کئیر‘ کی نفی کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اوباما کئیر کی رُو سے امریکیوں کی اکثریت کو صحت ِ عامہ کے لیے انشورنس لینا ضروری ہے۔

واشنگٹن کے بہت سے قانون ساز صدر اوباما کی جانب سے نئی امیگریشن پالیسی کو بھی رد کرتے ہیں جس سے امریکہ میں بسنے والے اُن لاکھوں تارکین ِوطن کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی جو امریکہ میں گذشتہ کئی برسوں سے غیر قانونی طور پر آباد ہیں۔

کرسمس اور نئی سال کی چھٹیوں کے بعد قانون ساز واشنگٹن میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ صدر اوباما تین روز کے لیے امریکہ کے مختلف شہروں میں جا کر اپنی حکومت کی ان پالیسیز کو اجاگر کریں گے جن سے بقول ڈیموکریٹس کے گذشتہ چند برسوں میں امریکی معیشت کو بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔

توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ 20 جنوری کو اپنے ’سٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب میں صدر اوباما معیشت پر خصوصی طور پر بات کریں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر اوباما امیگریشن ریفامز اور کیوبا کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔ صدر اوباما یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر ریپبلکنز نے امیگریشن بل کے حوالے سے رخنہ ڈالنے کی کوشش کی تو صدر اوباما اسے ویٹو کر دیں گے۔

XS
SM
MD
LG