رسائی کے لنکس

اوباما رومنی ملاقات، امریکی یکجہتی کی اعلیٰ روایت


مٹ رومنی کی وائٹ ہاؤس آمد

مٹ رومنی کی وائٹ ہاؤس آمد

امریکی تاریخ کی مشکل ترین صدارتی انتخابی مہم کو ایک ماہ سے بھی کم وقت گزرا ہے کہ ایک دوسرے کے مد مقابل امیدوار، صدر براک اوباما اور میساچیوسٹس کے گورنر مِٹ رومنی نے دوپہر کے کھانے پر ایک دوسرے سے ملاقات کی۔

اور اِس طرح، وائٹ ہاؤس سے کینٹ کلائین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے، کہ اُنھوں نے انتخاب کے بعد اتحاد کے فروغ کی اعلیٰ امریکی روایت برقرار رکھی ہے۔

صدر براک اوباما نے دوپہر کے کھانے کی دعوت اُس وقت روانہ کی تھی جب انتخابی رات مِٹ رومنی نے اپنی تقریر میں انتخابی مات تسلیم کی تھی۔

کچھ ہی روز بعد صدر نے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ اُن کی خواہش ہے کہ وہ اپنے ریپبلیکن پارٹی کے سابق چلینجر کے خیالات سنیں۔

دوپہر کے کھانے پر ملاقات جمعرات کے روز بند کمرے میں ہوئی جہاں کوئی فوٹوگرافر تک موجود نہیں تھا۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جے کارنی نے کہا ہے کہ ملاقات کا کوئی باقاعدہ ایجنڈا نہیں تھا، نہی مسٹر اوباما کسی خاص مطمع ٴنظر کو آگےبڑھانے کے خواہاں تھے۔ صدر چاہتے تھے کہ وہ معیشت کو فروغ دینے اور حکومت کی کارگزاری کو بہتر کرنے کے حوالے سے مسٹر رومنی کے خیالات سنیں۔

لیکن، ’روتھنبرگ پولٹیکل رپورٹ ‘ کے ایڈیٹر، اسٹورٹ روتھنبرگ کا کہنا تھا کہ اُنھیں ملاقات کے نتیجے میں ٹھوس پالیسی فیصلوں تک پہنچنے کی توقع نہیں تھی۔

کارنی نے کہا کہ جمعرات کو دوپہر کے کھانے پر ملاقات امریکی جمہوریت کے تسلسل کی غماز ہے۔
XS
SM
MD
LG