رسائی کے لنکس

تیسرا اور آخری صدارتی مباحثہ، اوباما رومنی تیاری میں مصروف

  • واشنگٹن

فائل

فائل

اِس سال کی انتخابی مہم کےدوران معیشت اہم ترین موضوع کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، جب کہ پیر کے روز قومی نشریاتی اداروں پر براہ راست پیش کیے جانے والے مباحثے کا موضوع ’امورِ خارجہ‘ ہوگا

امریکی صدر براک اوباما اور ریپبلیکن پارٹی سےتعلق رکھنے والے اُن کے حریف اور سابق گورنر مِٹ رومنی نے، جو کہ تیسرے اور آخری صدارتی انتخابی مباحثے کی تیاری میں مصروف ہیں، اتوار کے روز اپنی صدارتی مہم جاری رکھی اور ساتھ ہی اپنے مشیروں سے ملاقات کی۔

فیصلہ کُن ریاست فلوریڈا میں پیر کے روز منعقد ہونے والا یہ مباحثہ 90منٹ تک جاری رہے گا، جس کے تقریباً دو ہفتے بعد چھ نومبر کو صدارتی انتخابات ہوں گے۔

اِس طرح، آخری بار امریکی ووٹر براہ راست نشر ہونے والا یہ مباحثہ دیکھ سکیں گے جِس میں دونوں امیدوار ایک ہی اسٹیج پرموجود ہوں گےاور ایک دوسرے کےپالیسی اختلافات کوچیلنج کریں گے۔

اِس سال کی انتخابی مہم کےدوران معیشت اہم ترین موضوع کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، جب کہ پیر کے روز قومی نشریاتی اداروں پر براہ راست پیش کیے جانے والے اس مباحثے کا موضوع ’امورِ خارجہ‘ ہے۔

مسٹر رومنی اور اُن کے ریپبلیکن اتحادی گذشتہ ماہ لیبیا میں امریکی قونصل خانے پر ہونے والےالم ناک حملے کے واقع سے نبردآزما ہونے پرصدر اوباما کو متواتر ہدفِ تنقید بناتے رہے ہیں۔ گیارہ ستمبر کو بن غازی میں ہونے والے اِس حملے میں امریکی سفیر کرسٹوفر اسٹیونز اور تین دیگر امریکی ہلاک ہوگئے تھے۔

ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا پروگرام بھی مباحثے کا ایک موضوع بنا رہا ہے، جس میں مسٹر رومنی یہ کہتے آئے ہیں کہ اوباما انتظامیہ ایران کے ساتھ سختی برتنے میں ناکام رہی ہے جب کہ اسرائیل کو مؤثر حمایت نہیں فراہم کی جارہی ہے۔

مسٹر اوباما نے مسٹر رومنی پر یہ الزام لگایا ہے کہ اُنھوں نے لیبیا کے حملے کے معاملے پر سیاست چمکانے کی کوشش کی ہے اور یہ کہ ایران پر سخت تعزیرات نافذ ہیں، جب کہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کا سکیورٹی سے متعلق تعاون جاری ہے۔

صدر نے انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ذکر بھی کیا ہے، جس میں اسامہ بن لادن کی کمین گاہ پر چھاپہ مارنا شامل ہے، جس میں القاعدہ کا سرغنہ ہلاک ہوا۔
XS
SM
MD
LG