رسائی کے لنکس

امریکہ کی روس پر نئی تعزیرات عائد


Russian President Vladimir Putin and U.S. President Barack Obama

نومبر کے صدارتی انتخابات میں کی گئی مبینہ ہیکنگ اور مداخلت پر، امریکی صدر براک اوباما نے روس کے خلاف نئی تعزیرات عائد کر دی ہیں۔

صدر نے اس اقدام کو ’’ضروری اور مناسب جواب‘‘ قرار دیا ’’چونکہ اخلاقیات کے مروجہ بین الاقوامی ضابطوں کی انحرافی کرتے ہوئے، امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی‘‘۔

اوباما انتظامیہ اس بات کی خواہاں ہے کہ جب 20 جنوری کو صدر اپنے عہدے سے سبک دوش ہوں، یہ تعزیرات لاگو ہو چکی ہوں۔

صدارتی حکم نامے کے مطابق تعزیرات میں یہ بات شامل ہے کہ روسی انٹیلی جنس کے 35 اہل کاروں کو 72 گھنٹوں کے اندر اندر امریکہ سے چلے جانے کے لیے کہا گیا ہے، جب کہ روس کے دو سرکردہ انٹیلی جنس اداروں پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے نئی تعزیرات کی مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں، روسی وزارتِ خارجہ کی خاتون ترجمان ماریا زخاروف نے کہا ہے کہ ’’سچ پوچھیں تو ہم پہلے ہی روسی ہیکرز کے بارے میں آنے والی خبریں سن کر بیزار آ چکے ہیں، جو امریکی (حکومت) کے انتہائی اعلیٰ سطح سے آتی رہی ہیں‘‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’اوباما انتظامیہ نے چھ ماہ سے غلط اطلاعات (کی مہم) شروع کر رکھی ہے، جس کا مقصد نومبر کے صدارتی انتخابات میں اپنی پسند کی امیدوار کو آگے دکھانا ہے، جب وہ نتائج نہیں ملے جس کی اُنھیں خواہش تھی، وہ اپنی ناکامی کا الزام کسی دوسرے پر دھر رہے ہیں، جس سے روس امریکہ تعلقات کو دوہرا نقصان پہنچ رہا ہے‘‘۔

اگر اِن نئی پابندیوں پر کامیابی سے عمل درآمد ہو جائے، تو یہ بات غیر واضح ہے آیا جب 20 جنوری کو ٹرمپ انتظامیہ عہدہ سنبھالے گی، وہ اِن تعزیرات کو جاری رکھے گی۔

ڈونالڈ ٹرمپ کے پریس سکریٹری، شان اسپائسر نے روس کی جانب سے انتخابات میں مداخلت کا ثبوت مانگا ہے۔

جمعرات کو اُنھوں نے کہا کہ ’’بائیں بازو کے بہت سے لوگ (ٹرمپ کے انتخاب) کے جائز ہونے، اور جیت پر شک کا اظہار کر رہے ہیں، جو بدقسمتی ہے۔ اگر امریکہ کے پاس کسی کی جانب سے ہمارے انتخابات میں مداخلت کا کوئی واضح ثبوت ہے، تو اسے سامنے لانا چاہیئے‘‘۔

ری پبلیکن پارٹی کے معروف سینیٹر، لِنڈسی گراہم نے یہ بات دہرائی ہے کہ روس نے حالیہ امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی تھی، جس کی پاداش میں روس پر سخت نوعیت کی تعزیرات عائد ہونی چاہئیں۔

لِنڈسی گراہم نے یہ بات دہرائی ہے کہ روس نے حالیہ امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی، جس کی پاداش میں روس پر سخت نوعیت کی تعزیرات عائد ہونی چاہئیں۔

سینیٹر گراہم نے بدھ کے روز کہا تھا کہ 2017ء میں امریکی کانگریس آٹھ نومبر کے انتخابات میں روس کی مداخلت کے معاملے کی تفتیش کرے گی۔ بقول اُن کے، ’’مجھے توقع ہے کہ ایوان کے دونوں جانب سے روس پر سخت نوعیت کی پابندیوں کی منظوری دی جائے گی، خاص طور پر، بحیثیت ایک فرد، (صدر ولادیمیر) پیوٹن کے خلاف‘‘۔ بغیر تفصیل بتائے، اُنھوں نے کہا کہ ’’اب وقت آگیا ہے کہ روس کو اِس بات کو سمجھ لینا ہوگا کہ، بہت ہو چکا‘‘۔

XS
SM
MD
LG