رسائی کے لنکس

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے صحافیوں سے گفتگو نہیں کی اور نہ ہی دونوں ملکوں کے متعلقہ حکام کی جانب سے اس ضمن میں تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے

امریکہ کے صدر براک اوباما سعودی عرب پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے شاہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات کی ہے۔

امریکی حکام کےمطابق، دارالحکومت ریاض کے نواح میں ہونے والی اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کا محور شام میں جاری خانہ جنگی اور ایران کا جوہری پروگرام رہا۔

تاہم، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کے بعض معاملات میں مفادات کے ٹکراؤ اور متضاد موٴقف اپنانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اختلافات کو دور کرنے پر بھی بات کی ہوگی۔

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے صحافیوں سے گفتگو نہیں کی اور نہ ہی دونوں ملکوں کے متعلقہ حکام کی جانب سے اس ضمن میں تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔

تاہم، برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ ملاقات کےدوران براک اوباما اور شاہ عبداللہ نے اتفاق کیا کہ اختلافات کے باوجود دونوں ملک ایک دوسرے کے اتحادی رہیں گے۔

امریکی عہدیدار کے مطابق صدر اوباما نے سعودی شاہ کو یقین دلایا کہ امریکہ ایران کے ساتھ کوئی ایسا جوہری معاہدہ قبول نہیں کرے گا، جس سے خطے کی سلامتی پر حرف آئے۔

'رائٹرز' نے دعویٰ کیا ہے کہ دورانِ ملاقات امریکی صدر نے سعودی عرب کی جانب سے مبینہ طور پر شامی باغیوں کو کاندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے ٹینک اور طیارہ شکن میزائلوں کی فراہمی پر اپنی تشویش ظاہر کی۔

امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات خوش گوار ماحول میں ہوئی جس میں انہوں نے کھل کر بعض معاملات پر پیدا ہونے والے اختلافات پر بھی گفتگو کی۔

امریکی عہدیدار کے مطابق صدر اوباما نے سعودی شاہ پر واضح کیا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے اسٹریٹجک مفادات اب بھی بڑی حد تک یکساں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صدر اوباما اور شاہ عبداللہ نے عرب دنیا کے گنجان ترین ملک مصر کی سیاسی صورتِ حال پر بھی بات کی جب کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امریکی کوششوں سے جاری امن مذاکرات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ ملاقات کے دوران انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو باہم مربوط بنانے پر بھی گفتگو ہوئی۔

صدر اوباما جمعے کی شام ایک ہفتے پر محیط اپنے کثیر ملکی دورے کے اختتام پر ریاض پہنچے تھے جس کے فوراً بعد ہی انہوں نے سعودی شاہ سے ملاقات کی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG