رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کے مقابلے پر دفاعی اقدامات کر رہے ہیں، اوباما


فائل

فائل

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ جہاں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے مسئلے سے نبٹنے کی کوششیں کر رہا ہے وہیں شمالی کوریا سے لاحق خطرات کے مقابلے کے لیے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے شمالی کوریا کے جارحانہ رویے کو "معمولی خطرہ" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک شمالی کوریا کی دھمکیوں کے جواب میں دفاعی اقدامات کر رہا ہے۔

منگل کو امریکی نشریاتی ادارے 'سی بی ایس' پر نشر کیے جانے والے ایک انٹرویو میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ جہاں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے مسئلے سے نبٹنے کی کوششیں کر رہا ہے وہیں شمالی کوریا سے لاحق خطرات کے مقابلے کے لیے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کا مسئلہ ایسا نہیں جس کا کوئی آسان حل تلاش کیا جاسکے۔ ان کے بقول امریکہ اس قابل ہے کہ اپنے ہتھیاروں کےذریعے شمالی کوریا کو تباہ کردے لیکن ایسے کسی بھی اقدام کے نتیجے میں جہاں جانی نقصان بہت زیادہ ہوگا وہیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ شمالی کوریا امریکہ کے انتہائی قریبی اتحادی جنوبی کوریا کا پڑوسی ہے۔

صدر اوباما کا یہ انٹرویو نشر ہونے سے چند گھنٹے قبل ہی جنوبی کوریا کے ایک خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی کوریا کی حکومت درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے اپنے نئے میزائل 'موسودان' کا دوسرا تجربہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

'یونہاپ' نیوز ایجنسی نے منگل کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ جنوبی کوریا کی فوج کو ایسے شواہد ملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ پیانگ یانگ حکومت جلد ہی میزائل تجربہ کرنے والی ہے۔ تاہم جنوبی کوریا کی فوج کے ایک ترجمان نے 'یونہاپ' کی اس خبر کی تصدیق سے انکار کیا ہے۔

شمالی کوریا کا میزائل 'موسودان' آب دوز سے فائر کیے جانے والے ایک سوویت بیلسٹک میزائل کی نئی اور جدید شکل ہے جسے زمینی موبائل لانچر سے فائر کیا جاسکتا ہے۔

جنوبی کوریائی حکام کے مطابق اس میزائل کی مار تین سے چار ہزار کلومیٹر تک ہے جس کے باعث یہ میزائل بحرالکاہل میں واقع امریکہ کے زیرِانتظام جزیرے گوام کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

شمالی کوریا نے اس میزائل کا پہلا تجربہ 15 اپریل کو ملک کے بانی صدر اور موجودہ صدر کِم جونگ ان کے دادا کم اِل سنگ کی سالگرہ کے موقع پر کیا تھا۔ امریکی اور جنوبی کوریا کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ میزائل کا یہ تجربہ ناکام رہا تھا۔

XS
SM
MD
LG