رسائی کے لنکس

دولتِ اسلامیہ کے خلاف دنیا متحد ہے، صدر اوباما


فائل

فائل

اپنے ہفتہ وار ریڈیائی خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ اگر ان شدت پسندوں کو یونہی چھوڑ دیا گیا تو یہ امریکہ کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ثابت ہوں گے۔

امریکی صدر نے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں اور دوستوں کے ساتھ دولتِ اسلامیہ سے مقابلے اور اسے تباہ کرنے کی مہم جاری رکھے گا۔

ہفتے کو ریڈیو پر نشر کیے جانے والے خطاب میں صدر اوباما کا کہنا تھاکہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو عراق اور شام ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے عوام کے لیے خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان شدت پسندوں کو یونہی چھوڑ دیا گیا تو یہ امریکہ کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ثابت ہوں گے۔

اپنے خطاب میں صدر اوباما نے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں - سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان – میں ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس کی طرف سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف ان کے پیش کردہ منصوبے کی حمایت کا بطورِ خاص تذکرہ کیا۔

صدر نے کہا کہ امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں نے شامی باغیوں کو امریکہ کی جانب سے ہتھیاروں اور تربیت کی فراہمی کا قانون منظور کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پورا امریکہ "شدت پسندوں سے لاحق خطرے کے مقابلے پر متحد ہے۔"

صدر اوباما نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہرایا کہ وہ امریکی فوجیوں کو عراق میں ایک اور زمینی جنگ میں نہیں جھونکیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی فوجی دستوں کو شام میں داخل ہونے کا حکم دینے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ زمینی مداخلت کے بجائے وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کی ہر ممکن مدد کرے تاکہ وہ "خود اپنے ملک کے مستقبل کو محفوظ بناسکیں"۔

خیال رہے کہ امریکی فوجی طیارے گزشتہ کئی ہفتوں سے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کر رہے ہیں جب کہ امریکی حکام ضرورت پڑنے پر شام میں بھی اس نوعیت کے حملوں کا امکان ظاہر کرچکے ہیں۔

لیکن صدر اوباما کا موقف رہا ہے کہ وہ عراق میں امریکی فوجی مداخلت کو فضائی حملوں تک ہی محدود رکھیں گے اور امریکہ کی زمینی فوج کے دستے دوبارہ عراق نہیں بھیجیں گے۔

XS
SM
MD
LG