رسائی کے لنکس

اوباما نے پنیٹا کو وزیرِدفاع، پیٹریاس سی آئی اے چیف نامزد کردیا


اوباما نے پنیٹا کو وزیرِدفاع، پیٹریاس سی آئی اے چیف نامزد کردیا

اوباما نے پنیٹا کو وزیرِدفاع، پیٹریاس سی آئی اے چیف نامزد کردیا

صد اوباما نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا کو امریکہ کا نیا وزیرِدفاع نامزد کیا ہے۔

جمعرات کے روز 'وہائٹ ہاؤس' میں خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو سی آئی اے کا نیا چیف، جبکہ افغانستان میں ان کی ذمہ داریاں امریکی سینٹرل کمانڈ کے نائب سربراہ لیفٹننٹ جنرل جان ایلن کو سونپنے کا بھی اعلان کیا۔

اپنے خطاب میں صدر اوباما نے سینئر امریکی سفارتکار ریان کروکر کو افغانستان کیلیے نیا امریکی سفیر نامزد کرنے کا بھی اعلان کیا۔ مذکورہ تمام افراد کی ان کے نئے عہدوں پر تعیناتی امریکی سینیٹ کی منظوری سے مشروط ہے۔

سی آئی اے کے موجودہ چیف کی بطورِ وزیرِ دفاع نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ لیون پنیٹا کی حب الوطنی اور انتظامی صلاحیتیں بالکل ویسی ہیں جیسی "یہ ملک اپنے نئے سیکریٹری دفاع میں دیکھنا چاہتا ہے"۔ ان کے بقول پنیٹا نے متشدد انتہاپسندی کے خلاف جاری امریکی قوم کی جنگ میں ایک غیر متزلزل کردار ادا کیا ہے۔

پنیٹا موجودہ امریکی سیکریٹری دفاع رابرٹ گیٹس کی جگہ سنبھالیں گے جو رواں برس اپنے عہدے سے دستبردار ہورہے ہیں۔ گیٹس کو سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے 2006ء میں وزیرِدفاع مقرر کیا تھا اور صدر اوباما نے اقتدار سنبھالنے کے بعد انہیں ان کے عہدے پر برقرار رکھا تھا۔

افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو سی آئی اے کا نیا سربراہ نامزد کرتے ہوئے صدر اوباما نے انہیں امریکی قوم کا ایک "نمایاں اسٹریٹجک مفکر" اور "بہترین صلاحیتوں کا حامل فوجی افسر" قرار دیا۔ انہوں نے جنرل پیٹریاس کی افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ کے معاملات پر "گہری نظر" ہونے کا بھی بطورِ خاص تذکرہ کیا۔

صدر اوباما نے مذکورہ چاروں افراد کو "مضبوط رہنما" قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی تعیناتیوں سے امریکہ کو درپیش فوری مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔

صدر اوباما کی قومی سلامتی کی نئی ٹیم عراق میں تعینات تمام امریکی فوجیوں کے رواں برس انخلاء کے طے شدہ پروگرام پر عمل درآمد کی ذمہ دار ہوگی۔ اس نئی ٹیم کے کاندھوں پر رواں سال جولائی سے افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کے انخلاء کے عمل کے آغاز کی ذمہ داری بھی ہوگی۔

XS
SM
MD
LG