رسائی کے لنکس

اوباما کا اہم شعبوں میں سرمایہ کاری جاری رکھنے پر زور


صدر براک اوباما اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کر رہے ہیں۔

صدر براک اوباما اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کر رہے ہیں۔

صدر براک اوباما نے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ریپبلیکن قیادت اور قانون سازوں کو باہمی تعاون کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو درپیش چیلنج سیاست اور سیاسی جماعتوں سے زیادہ اہم ہیں۔ ”ہم ساتھ مل کر ہی آگے بڑھ سکتے ہیں یا بالکل نہیں۔“

صدر براک اوباما نے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں قومی اہداف کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے جدت، تحقیق، ترقی اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں حکومتی سرمایہ کاری جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔

منگل کو سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے مشترکہ سالانہ خطاب میں صدر اوباما نے اقتصادی صورت حال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے لیکن اسے مستقبل میں اپنی قائدانہ حیثیت اور مسابقت برقرار رکھنے کے لیے مزید کام کرنا ہوگا۔

ماضی کے روس اور امریکہ کے خلائی پروگراموں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ خلا میں امریکی سبقت کی واحد وجہ تحقیق اور تعلیم میں سرمایہ کاری تھی جس سے نا صرف نئی صنعتیں وجود میں آئیں بلکہ لاکھوں افراد کو روزگار کے مواقع بھی ملے۔

صحت عامہ سے متعلق اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ وہ اس بارے میں قانون میں بہتری لانے کے لیے تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن وہ اس کے ایسے جزیات کو منسوخ کرنے کے حق میں نہیں جس کے ذریعے اُن کے بقول انشورنس نظام میں بہتری آئی ہے۔

خارجہ اُمور کے موضوع پر اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ نے عراق میں اپنے عزم کی پاسداری کی ہے اور یہاں سلامتی کی صورت حال میں بہتری اور نئی حکومت کے قیام کے بعد جنگ اختتام پزیر ہو رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ القاعدہ کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ واضح کر چکا ہے کہ کسی رعایت کے بغیر اس دہشت گرد گروپ کو شکست دی جائے گی۔

صدر اوباما نے افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں اور شہریوں کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں کی وجہ سے آج پہلے سے کم تعداد میں افغان شہری طالبان شدت پسندی کی گرفت میں ہیں۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ آنے والا وقت کٹھن ہوگا۔

امریکی صدرنے کہا کہ پاکستان میں روپوش القاعدہ کی قیادت 2001ء کے بعد سے اس وقت سب سے زیادہ دباؤ میں ہے اور اس کے رہنما اور جنگجو ہلاک ہو رہے ہیں جب کہ اس گروپ کے محفوظ ٹھکانوں میں بھی کمی آ رہی ہے۔

صدر کا کہنا تھا کہ گذشتہ دہائیوں کے دوران کئی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، امریکہ میں سٹور اور فکٹریاں بند ہو گئی ہیں، ملازمین یا تو بے روزگار ہو گئے ہیں یا اُن کی اجرت میں کمی آئی ہے، اور کاروباری شعبے میں چین اور بھارت امریکہ کے مدمقابل آ گئے ہیں۔

ریپبلیکن جماعت کا موقف پیش کرتے ہوئے ایوان نمائدگان کے رکن پال رائن نے سرکاری اخراتجات اور اوباما انتظامیہ کے حجم میں کمی اور قومی قرضے کے معاملے سے نمٹنے پر زرو دیا۔

رائن جو امریکی ایوان نمائندگان کی بجٹ کمیٹی کے نئے سربراہ بھی ہیں، نے کہا کہ اوباما انتظامیہ کی طرف سے ضرورت سے زائد مالی وسائل خرچ کرنے کی وجہ سے قرضوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ انھوں نے صحت عامہ سے متعلق اصلاحاتی قانون کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس کی وجہ سے ناصرف انشورنس پر آنے والے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

ریپبلیکن جماعت سے منسلک ایوان نمائندگان کے اراکین نے گذشتہ ہفتے صحت عامہ کے قانون کی منسوخی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

صدر براک اوباما نے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ریپبلیکن قیادت اور قانون سازوں کو باہمی تعاون کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو درپیش چیلنج سیاست اور سیاسی جماعتوں سے زیادہ اہم ہیں۔ ”ہم ساتھ مل کر ہی آگے بڑھ سکتے ہیں یا بالکل نہیں۔“

XS
SM
MD
LG