رسائی کے لنکس

امریکیوں کو مستقبل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے: صدر اوباما


صدر اوباما نے صدارتی نامزدگی کی مہم میں مسلمانوں کے بارے میں اہانت آمیز بیانات دینے والوں کو بھی نشانہ بنایا اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کی مذمت کی۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اپنے ساتویں اور آخری اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں مستقبل کے اُمور اور ملک میں سیاسی تقسیم کو کم کرنے سے متعلق معاملات پر تفصیلی بات چیت کی۔

اُنھوں نے اپنے خطاب میں صدارتی نامزدگی کے لیے ریپبلکن امیدواروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کو "مستقبل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے"۔

"امریکہ پہلے بھی بڑے چیلنجز سے گزرا ہے۔۔۔ جنگوں، کساد بازار، تارکین وطن کی بڑی تعداد میں آمد، جائز حق کے لیے محنت کشوں کی لڑائیوں اور شہری حقوق کی تحریکوں سے۔ ان سب حالات میں ایسے لوگ رہے ہیں جو ہمیں یہ مستقبل سے خوفزدہ کرتے تھے، جو یہ دعویٰ کرتے کہ ہمیں تبدیلی کو روکنا ہے۔۔۔لیکن ہر مرحلے میں ہم نے اس خوف پر قابو پایا ہے۔"

صدر اوباما نے کہا کہ القاعدہ اور ’داعش‘ ہمارے لوگوں کے لیے براہ راست خطرہ ہیں کیوں کہ اُن کے بقول آج کی دنیا میں بہت تھوڑے سے دہشت گرد، جنہیں انسانی قدروں کا بالکل پاس نہیں ہے، وہ بہت تباہی کر سکتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ان دہشت گردوں کو جڑ سے ختم کیا جائے گا اور تباہ کیا جائے گا۔

کھچا کھچ بھرے ایوان نمائندگان میں خطاب کرتے ہوئے صدر نے اعتراف کیا کہ ان کے دور صدارت کے آخری سال سے توقعات کم ہیں لیکن انھوں نے اپنی پالیسی اور مقاصد کے حصول کے لیے کام کرنے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

"شکستہ امیگریشن نظام، اپنے بچوں کا اسلحے کے تشدد سے تحفظ، یکساں کام کا یکساں معاوضہ، کم سے کم اجرت میں اضافہ۔۔۔یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو محنت کش خاندانوں کے لیے اب بھی بہت معنی رکھتی ہیں اور میں اس وقت تک اس معاملے کو نہیں چھوڑوں گا جب تک یہ مکمل نہ ہو جائیں۔"

اوباما نے اقتصادی معاملات پر اپنے ناقدین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ "جو کوئی بھی یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ امریکہ کی معیشت تنزلی کا شکار ہے، وہ صرف افسانے کو بڑھا رہا ہے۔"

انھوں نے ایک کروڑ چالیس لاکھ روزگار کے نئے مواقع، بے روزگاری کی شرح میں نصف حد تک کمی، گاڑیوں اور دیگر پیداواری صنعتوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اس وقت امریکہ دنیا کی مضبوط ترین اور سب سے پائیدار معیشت ہے۔"

خارجہ پالیسی پر اوباما کا کہنا تھا کہ "اولین ترجیح امریکیوں کا تحفظ اور دہشت گردوں کا پیچھا کرنا ہے"۔ انھوں نے القاعدہ اور داعش کو امریکہ کے لیے خطرہ قرار دیا لیکن ساتھ ہی ایسے لوگوں کو خبردار کیا جو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا "تیسری جنگ عظیم" کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان کے بقول یہ "ہماری قوم کی بقا کے لیے خطرہ نہیں۔"

صدر نے کہا کہ داعش اور لوگوں کو بھرتی کرنے کے لیے جو پروپیگنڈا کر رہی ہے "ہمیں اس لڑائی میں اپنے کلیدی اتحادیوں کو یہ کہہ کر پرے دھکیلنے کی ضرورت نہیں کہ داعش دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک کا نمائندہ ہے۔"

اوباما نے صدارتی نامزدگی کی مہم میں مسلمانوں کے بارے میں اہانت آمیز بیانات دینے والوں کو بھی نشانہ بنایا اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کی مذمت کی۔

"جب سیاستدان مسلمانوں کی توہین کرتے ہیں، جب مسجد میں توڑ پھوڑ ہوتی ہے، یا ایک بچے کو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تو یہ سب ہم مزید محفوظ نہیں بناتا۔ یہ سراسر غلط ہے۔ یہ دنیا کی نظروں میں ہمیں کم تر کرتا ہے۔ یہ ہمارے مقاصد کے حصول کو اور مشکل بنا دیتا ہے اور یہ اس کے برخلاف ہے جو ہم بحیثیت ایک ملک ہیں"۔

امریکی صدر نے اس موقع پر مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاو کو روکنے، ٹرانس پیسفک تجارتی معاہدے، کیوبا کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو اپنی خارجہ پالیسی کے حاصل کردہ مقاصد کے طور پر پیش کیا۔

ایک گھنٹے سے زائد اپنے خطاب میں صدر براک اوباما نے نئی پالیسوں کے اعلان کی بجائے اپنے دور میں کیے جانے والے اقدامات پر بات چیت کی۔

اُنھوں نے گوانتاناموبے قید خانے کے بارے میں کہا کہ وہ اس کو بند کرنے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ صدر کا کہنا تھا کہ یہ قید خانہ غیر ضروری ہے اور اس قید خانے کا نام دشمن مزید لوگوں کو بھرتی کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

گورنر نکی ہیلی (فائل فوٹو)

گورنر نکی ہیلی (فائل فوٹو)

صدر کے خطاب پر جنوبی کیرولینا کی گورنر نکی ہیلی نے ریپبلکن کی طرف سے ردعمل کا اظہار کیا۔ ان کے بارے میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ وہ ریپبلکن صدارتی امیدوار کی طرف سے نائب صدارت کے لیے امیدوار ہو سکتی ہیں۔

گورنر ہیلی نے کہا کہ صدر مبینہ طور پر اپنے "بلند بانگ دعوؤں" پر پورا نہیں اتر سکے۔

"ایسے میں جب کہ وہ اپنی مدت (صدارت) کے آخری سال میں داخل ہو رہے ہیں، بہت سے امریکی اب بھی معیشت کے اس دباؤ کا شکار ہیں جو کہ اتنی کمزور ہے کہ یہ آمدن کی شرح کو نہیں بڑھا سکتی۔ ہم قومی قرضوں کے بوجھ تلے پستا ہوا محسوس کر رہے ہیں اور صحت عامہ کے منصؤبے سے ہمارے بہت سے شہروں میں اضطرابی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ "ہم 11 ستمبر (2001ء) کے بعد دہشت گردی کا سب سے زیادہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں اور لگتا یہ ہے کہ یہ صدر یا تو اس سے نمٹنے کے لیے آمادہ نہیں یا پھر اس قابل نہیں ہیں۔ جلد ہی اوباما کی صدارت ختم ہو جائے گی اور امریکہ کو ایک نئی سمت میں مڑنے کا موقع ملے گا۔"

XS
SM
MD
LG