رسائی کے لنکس

صدر اوباماکے خطاب پر ملا جلا ردعمل


صدر اوباماکے خطاب پر ملا جلا ردعمل

صدر اوباماکے خطاب پر ملا جلا ردعمل


صدر باراک اوباما کےپہلے سٹیٹ آف دی یونین خطاب پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہاہے۔ صدر نے اپنے خطاب میں زیادہ ترتوجہ ملکی معیشت پر مرکوز رکھی جس میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور مالیاتی خسارے کو کم کرنا شامل ہے۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے کئی ارکان نے صدر کے خطاب امیدافزااور مثبت قرار دیا جب کہ کچھ ری پبلیکن ارکان کا کہنا تھا کہ صدر اوباما ماضی کی تکرار کرتے ہوئے ملکی مسائل کی ذمہ داری سابقہ صدر پر ڈالنے کی کوشش کرتے رہے۔

صدر نے اپنے خطاب میں ڈیموکریٹس اور ری پبلبکنز ، دونوں پر زور دیا کہ وہ اپنی تلخیوں کو کم کرکے عوام کے مسائل حل کے لیے مل کر قانون سازی کریں۔ نیویارک کی کالم نگار گیل کولنز نے اپنے مضمون میں اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایوان کی شکل یہ بن چکی ہے کہ اعتدال پسند ڈیموکریٹ ، ترقی پسند ڈیموکریٹس سے نفرت کرتے ہیں۔ عام قدامت پسند ری پبلیکنز،پرجوش قسم کے ری پبلکنز سے نفرت کرتے ہیں۔ اور ان پرجوش ارکان کے اندر اتنی داخلی لڑائیاں لڑائیاں ہیں کہ ٹوٹ پھوٹ کاخطرہ موجود ہے۔

صدر اوباما نے اپنے خطاب اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کو اس بات سے بےزاری ہوتی ہے کہ واشنگٹن کا ہر روز انتخاب کا دن ہوتا ہے۔ ہم مستقلاً ایک ایسی انتخابی مہم میں مصروف نہیں رہ سکتے جس کا مقصد مدمقابل کے بارے میں ایسی اخباری سرخیاں لگوانا ہوجو اس کی سبکی کا باعث بنے، اس خیال سے کہ اگر آپ ہار گئے تو میں جیت جاؤں گا۔

صدر اوباما کا پہلا سٹیٹ آف دی یونین خطاب ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ان کی ڈیموکریٹک پارٹی ابھی تک گذشتہ ہفتے ایک بھرپور ڈیموکریٹک ریاست میساچوسٹس میں امریکی سینٹ میں ایک نشست کھونے کے صدمے سے دوچار ہے۔ سینٹ کی اس نشست کے ہاتھ سے نکل جانے سے ان کے لیے صحت کی اصلاحات سے متعلق بل کو منظور کرانے کے امکانات متاثرہوئے ہیں اور آئندہ نومبر میں کانگریس کے انتخابات کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

صدر نے اپنے خطاب میں اس سیاسی ناکامی کا براہ راست حوالہ دیتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ ووٹروں کو ناراض ہونے کا حق حاصل ہے لیکن انہوں نے اپنے ساتھی ڈیموکریٹس کو بتایا کہ ان کے پاس ابھی بھی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں بڑی اکثریت موجود ہے اور یہ کہ انہیں پسپائی اختیار کرنے کی بجائے بہتر انداز میں امور مملکت چلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیموکریٹس اور ری پبلیکن دونوں سے کہا کہ وہ اپنے تلخ اختلافات پر قابو پائیں اور مسائل کے حل کی خاطر بل پاس کرانے کے لیے مل کرکام کریں۔

صدر اوباما کے پہلے سٹیٹ آف دی یونین خطاب پرری پبلکن سینٹر بوب کورکرنے تبصرہ کرتےہوئے وی او اے کو بتایا کہ صدر کا لہجہ دوستانہ تھا لیکن ان کی تقریر میں ری پبلیکن کے ساتھ کام کرنے کے طریقوں کی تفصیلات کی کمی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ان کی گفتگو اچھی تھی لیکن پالیسیوں کے معاملے میں مجھے یہ محسوس نہیں ہوا کہ انہوں نے گذشتہ چند ہفتوں میں کچھ بہت زیادہ سیکھا ہے۔

ری پبلیکن سینٹر جان کائل نے صدر کی تقریر کو بہت زیادہ جماعتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب سے زیادہ کسی مہم کی تقریر لگ رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ابھی تک ملک کے مسائل پر نام لیے بغیر سابق صدر جارج بش کو مورد الزام ٹہرا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک سال سے بھی زیادہ عرصے کے بعد آپ اپنے مسائل کو اپنے مسائل قرار دیں۔ آپ نے صدر بننے کے لیے اپنی مہم میں ان مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کیاتھا۔ تو آپ ان مسائل کے بارے میں شکایت کرنا بند کریں جو آپ کو ورثے میں ملے ہیں۔

دوسری طرف ڈیموکریٹس نے صدر کو پرامید ہونے اور بیشتر ووٹروں کے سب سے بڑے مسئلے روزگار پر توجہ مرکوز کرنے کو سراہا۔ ڈیموکریٹک سینٹر میری لینڈریو نے وی او اے کو بتایا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ وہ ذرا بھر بھی کوئی جماعتی سیاسی تقریر تھی۔ انہوں نے کہاکہ صدر نے جن جن چیزوں پر توجہ مرکوز کی ، وہ میرے لیے خاص طورپر خوشی کا باعث تھے۔ انہوں نے کم از کم 15 بار چھوٹے کاروباروں، متوسط طبقے کے خاندانوں کی مدد،اور ملازمتوں کی بات کی۔ میرا خیال ہے کہ یہی درحقیقت وہ باتیں تھیں جن پر ہمیں توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر اوباما کو حزب اختلاف کے ری پبلکن ارکان نے سب سے زیادہ اس وقت سراہا جب انہوں نے یہ کہا کہ آئندہ سال روزگار پیدا کرنا اور چھوٹے کاروباروں کو فروغ دینا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ لیکن انہیں اس وقت ری پبلکن کی نسبت ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے زیادہ سراہا گیا جب انہوں نے کانگریس سے روز گار پیدا کرنے کے بل کو منظور کرنے اور اسے جلد ازجلد وائٹ ہاؤس بھیجنے کی درخواست کی۔

نیویارک ٹائمز کی گیل کولنز کہتی ہیں کہ صدر اوباما یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ دو ٹرم کے لیے درمیانے درجے کے ایک صدر بننے کی بجائے ایک ٹرم کے اچھے صدر بننے کو ترجیح دیں گے۔ ان کے خطاب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرنا چاہتے ہیں جو ایک اچھا صدر بننے کی راہ ہموار کریں۔

XS
SM
MD
LG