رسائی کے لنکس

اوباما ‘سٹیٹ آف دِی یونین ایڈریس’ کےمسودےکو آخری شکل دے رہے ہیں

  • پاؤلا ولفسن

امریکی صدر باراک اوباما اب سے کچھ ہی گھنٹے بعد، واشنگٹن ٹائم کے مطابق نو بجے رات، اپنی پہلی سٹیٹ آف دی یونین تقریر کرنے والے ہیں۔

لیکن ملکی صورتِ حال پر یہ اُن کا پہلا سالانہ خطاب ہوگا، جودراصل اُن کی طرف سے آئندہ سال کے لیے اپنے منصوبوں، پالیسیوں اور اہداف کا خاکہ پیش کرنے کا موقع ہے۔

وہ یہ تقریر ایسے وقت کررہے ہیں جب مسٹر اوباما اور اُن کی جواں سال صدارت کو مشکل درپیش ہے۔


رائے دہندگان کی برہمی اور مایوسی بالکل عیاں ہے۔ حالیہ دِنوں میں ورجینیا، نیو جرسی اور میساچیوسٹس کےاہم انتخاب میں ری پبلیکنز نے فتح کے جھنڈے گاڑے ہیں۔

اور رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ عوام میں صدر کی مقبولیت ماہ بہ ماہ کم ہوتی جا رہی ہے۔

متوقع طور پر وہ اپنی سٹیٹ آف دِی یونین خطاب میں نیا لائحہٴعمل اختیار کریں گے۔ پالیسیوں میں تبدیلی کا امکان نہیں ۔ لیکن، اگر کسی نئی پالیسی کو شروع کرنے کا ارادہ پیشِ نظر ہوتا، توِ اس طرح کا عندیہ ضرور ملتا کہ وہائیٹ ہاؤس اپنے ایسے اقدامات کے بارے میں توجیہات پیش کرتا، تاکہ امریکی عوام کے دل جیتے جا سکتے۔ اور اِس بات کا سب سے زیادہ ثبوت اُن کی تقریر کے اُن حصوں سے عیاں ہوتا جن کا تعلق بیروزگاری اور معیشت سے ہوتا۔

جب کہ اعدادو شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت کساد بازاری سے باہر نکل رہی ہے، جب کہ روزگار مہیا کرنے کے معاملے میں ابھی وقت لگےگا۔ وہائیٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گِبز کا کہنا ہے کہ سٹیٹ آف دِی یونین پر اِنہی باتوں پر زیادہ دھیان مرکوز رہے گا۔

اُن کے الفاظ میں، ‘ میرے خیال میں صدر کی تقریر کا دو تہائی حصہ معیشت کی صورتِ حال اور معیشت کو دوبارہ فروغ دینے کے بارے میں ہوگا۔’

گبز نے خطاب کا جائزہ امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کے ساتھ اپنے انٹریوز میں پیش کیا۔

اُنھوں نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ صدر اپنے معیشت سے متعلق ایجنڈے کی سب سے زیادہ متنازع باتوں میں سے ایک یعنی ہیلتھ کیئر اصلاحات پر بات کریں گے۔

اُن کے بقول، ‘صدریقینی طور پر ہیلتھ کیئر پر بات کریں گے، کیونکہ لاکھوں امریکیوں سے ہم یہ بات سنتے ہیں کہ وہ سخت محنت کرتے ہیں، وہ زیادہ طویل اوقات محنت میں گزارتے ہیں لیکن وہ کم تنخواہ گھر لے کر جاتے ہیں۔ وہ گھر کم تنخواہ اِس لیے لے جاتے ہیں کیونکہ ہیتھ کیئر کی لاگت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔’

میسا چیوسٹس کے خصوصی سنیٹ انتخاب میں اپنی حالیہ فتح کے بعد اب ری پبلیکن پارٹی اِس حیثیت میں ہے کہ ہیلتھ کیئرسے متعلق جِس طرح امریکی ادائگیاں کرنا چاہیں گےاُس پر حتمی ووٹ میں ضابطوں کے تاخیری حربے استعمال کریں۔

گِبز نے سی بی ایس کو بتایا کہ صدر اوباما ایک بار پھر ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس پر زور دیں گے کہ مل کر کام کریں۔

اُن کے الفاظ میں ‘ہم تب تک ملک کے اُن بے شمار اصل لوگوں کو درپیش چیلنجوں کا مداوا نہیں کرسکتے جب تک ہم یہ تصور نہ کرلیں کہ واشنگٹن میں گزرنے والا ہر دِن الیکشن کا دِن ہے، اور ہم اوسط امریکی کو سامنے آنے والی پریشانی کو پیشِ نظر رکھیں ۔’

لیکن ایوان میں دو طرفہ حمایت کی صورتِ حال کا معاملہ خوش کُن نہیں۔ صدر نے ابھی خطاب نہیں کیا ، جب کہ ری پبلیکن ارکان نے متعدد متوقع تجاویز پر تنقید کرنا شروع کر دی ہے۔

مثلاً، وائٹ ہاؤس نے یہ اعلان کیا ہے کہ بجٹ خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے صدر کچھ داخلی منصوبوں پر کیے جانے والے اخراجات پر پابندی لاگو کریں گے۔ ری پبلیکنز کہنے لگے ہیں کہ یہ تقریباً ناکافی ہے، یہ ایسا ہی ہے کہ رِستے ہوئے زخم پرپٹی لگا دی جائے۔

ٹینیسی کے سنیٹر لَمار الیگزینڈر نے ‘سی بی ایس’ کو بتایا کہ قومی قرضہ جات سے نمٹنے کے لیے سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔

اُن کے الفاظ میں: ‘ ہمیں اِس سال قرضے کی حد میں اضافہ کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے، اتنی رقم کے ساتھ جو وفاقی بجٹ 1999ء کے برابر ہے، پورے کے پورے بجٹ کے مساوی۔’

صدر کی تقریر کا ری پبلکن ارکان کی طرف سے رسمی جواب ورجینا کے نئے گورنر، باب میک ڈونیل پیش کریں گے۔

XS
SM
MD
LG