رسائی کے لنکس

امریکی سینیٹ میں ٹیکس کٹوتی تجویز کی ناکامی پر صدر اوباما کی نکتہ چینی


امریکی سینیٹ میں ٹیکس کٹوتی تجویز کی ناکامی پر صدر اوباما کی نکتہ چینی

امریکی سینیٹ میں ٹیکس کٹوتی تجویز کی ناکامی پر صدر اوباما کی نکتہ چینی

قانون ساز جنہیں ڈیموکریٹ سینیٹروں کی حمایت حاصل ہے، ایسے افراد کے لیے ٹیکسوں میں رعائت برقرار رکھنا چاہتے ہیں جس کی انفرادی آمدنی دو لاکھ ڈالر یا میاں بیوی کی مجموعی آمدنی ڈھائی لاکھ ڈالر سالانہ سے کم ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے مالی مشکلات میں مبتلا ملک کے متوسط طبقے کے لیے ٹیکس کٹوتیوں کے مسئلے پر ری پبلیکن ارکان سینیٹ پر نکتہ چینی کی ہے۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ انہیں امریکی سینیٹ میں ہفتے کے روز کی ووٹنگ پر بہت مایوسی ہوئی ہے اور یہ کہ امیر ترین امریکیوں پر ٹیکسوں کی کم شرح کو محفوظ بنانے کے لیے ٹیکس کٹوتیوں کے معاملے پر متوسط طبقے کو یرغمال بنانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ہفتے کی صبح سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی جانب سے امیر ترین امریکیوں کے سوا دیگرافراد کے لیے ٹیکس کٹوتیوں کے اقدامات کی کوشش کو ری پبلیکن سینیٹروں نے ناکام بنا دیا۔

ری پبلیکن پارٹی کا کہناہے کہ ٹیکس کٹوتیوں کا ثمرات کسی تفریق کے بغیر سب کو ملنے چاہیں تاکہ ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں اور صارفین کی خریداریوں میں اضافہ ہو۔

صدر اوباما اور ری پبلیکن راہنما دونوں ہی اس عزم کا اظہار کرچکے ہیں کہ اس سال کے اختتام پر ٹیکسوں میں رعائت کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی وہ اس سلسلے میں کسی تصفیئے تک پہنچ جائیں گے۔

قانون ساز جنہیں ڈیموکریٹ سینیٹروں کی حمایت حاصل ہے، ایسے افراد کے لیے ٹیکسوں میں رعائت برقرار رکھنا چاہتے ہیں جس کی انفرادی آمدنی دو لاکھ ڈالر یا میاں بیوی کی مجموعی آمدنی ڈھائی لاکھ ڈالر سالانہ سے کم ہے۔

ایک اور تجویز کو بھی، جس میں دس لاکھ ڈالر سالانہ سے کم کمانے والوں کو ٹیکسوں میں رعائت دینے کے لیے کہا گیاتھا،ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

XS
SM
MD
LG