رسائی کے لنکس

انہوں نے امریکہ کی فوج کے فارغ التحصیل جوانوں کو یاد دلایا کہ صرف طاقت ہی تمام مسائل کو حل نہیں کر سکتی اور سفارت کاری اور معاہدوں کی ضرورت پر زور دیا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے ریاست کولوراڈو کے شہر کولوراڈو سپرنگز میں امریکہ کی ایئر فورس اکیڈمی کے کانووکیشن سے خطاب کیا۔

انہوں نے فارغ التحصیل ہونے والے کیڈٹس کو اپنے عہد صدارت کے سات سالوں کے دوران قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق اپنے تجربات سے حاصل ہونے والے اسباق سے آگاہ کیا۔

اوباما نے جمعرات کو فضائیہ کے نو تربیت یافتہ جوانوں پر زور دیا کہ وہ دنیا میں امریکہ کی قیادت اور سرگرمی سے منہ نہ موڑیں۔

’’ہم الگ تھلگ نہیں رہ سکتے۔ عالمگیر اور باہمی طور پر مربوط دنیا میں یہ ناممکن ہے۔ غیریقینی کے اس وقت میں کبھی کبھار اس بات میں بہت کشش ہوتی ہے کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں اور ایسے تنازعات سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں جن کا حل انتہائی مشکل ظر آتا ہے اور دوسرے ملکوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔‘‘

انہوں نے ملک میں جاری متنازع پرائمری انتخابات کا ذکر نہیں کیا مگر ان کے بیان میں ریپبلکن پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر چھپی تنقید تھی جنہوں نے دیگر چیزوں کے علاوہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کرنے اور نیٹو میں امریکہ کی شمولیت پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

’’ہم اپنی توجہ صرف داخلی معاملات پر مرکوز نہیں کر سکتے۔ ہم الگ نہیں رہ سکتے۔ یہ جھوٹی تسلی ہو گی۔‘‘

سفارتکاری، معاہدے

انہوں نے امریکہ کی فوج کے فارغ التحصیل جوانوں کو یاد دلایا کہ صرف طاقت ہی تمام مسائل کو حل نہیں کر سکتی اور سفارت کاری اور معاہدوں کی ضرورت پر زور دیا۔

’’ہمیں ہر ہتھیار، قومی طاقت کے ہر جزو سے فائدہ اٹھانا ہو گا۔ اسی طرح ہم نے سرد جنگ جیتی، ناصرف اپنے ہتھیاروں کی قوت سے بلکہ اپنے خیالات کی طاقت سے، اپنی مثال کی طاقت سے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ نیٹو کے قیام کا معاہدہ اور روایتی اور جوہری ہتھیاروں کو محدود کرنے کے دیگر معاہدے ’’ہمیں محفوظ رکھنے میں مددگار ہیں‘‘ اور امریکہ کی عالمی امور میں قیادت کا سب سے مؤثر طریقہ ہیں۔

’’جب دنیا میں مسائل پیدا ہوتے ہیں تو وہ بیجنگ یا ماسکو کو ٹیلی فون نہیں کرتے۔ وہ ہم سے رابطہ کرتے ہیں۔‘‘

انہوں نے اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہونے والے جوانوں سے کہا کہ امریکی فوج ’’دنیا میں سب سے باصلاحیت جنگی فورس ہے۔‘‘

ان کی اس بات کا ہدف وہ ریپبلکن نقاد تھے جن کا کہنا ہے کہ ان کی قیادت میں فوج کی صلاحیت کم ہوئی ہے۔

فضائیہ کے افسروں کے مطابق ان 812 گریجوایٹس میں سے 345 پائلٹ کے طور پر تربیت حاصل کریں گے جبکہ دیگر 60 ڈرون ایسے بغیر ہواباز کے طیاروں کو دور بیٹھ کر کنٹرول کرنے کی تربیت حاصل کریں گے۔

ڈرون امریکہ کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

گریجوایشن تقریب کے دوران نمائشی پرواز کرنے والا ایک ایف سولہ طیارہ گر کر تباہ ہوا مگر اس میں سوار پائلٹ بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ بعد میں اوباما نے بعد میں پیٹرسن ایئر فورس بیس میں طیارے کے پائلٹ سے ملاقات کی اور اس کی سلامتی پر اطمینان کا اظہار کیا اور فضائیہ میں خدمات کے لیے اس کا شکریہ ادا کیا۔

XS
SM
MD
LG