رسائی کے لنکس

صدر اوباما انتخابی مہم شروع کرنے کے لیے تیار

  • جم میلون

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نومبر میں ملکی معیشت کا مسئلہ فیصلہ کن ثابت ہو گا۔ انتخابی مہم میں وفاقی حکومت کے سائز اور رول کے بارے میں دونوں امیدواروں کے اندازِ فکر کا فرق بھی سامنے آ جائے گا۔

صدر براک اوباما سرکاری طور پر اس ہفتے کے آخر میں امریکہ کی صدارت کی دوسری مدت کے لیے اوہایو اور ورجینیا کی ریاستوں سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔ ویسے تو مسٹر اوباما اور ان کے متوقع ریپبلیکن حریف، ریاست میسا چوسٹس کے سابق گورنر مٹ رومنی کے درمیان مقابلہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

اب جب کہ انتخاب کے دن میں چھہ مہینے سے کچھ ہی زیادہ دن باقی رہ گئے ہیں صدر براک اوباما کو شکست دینے کے لیے ریپبلیکنز کی اسٹریٹجی بالکل واضح ہے یعنی اس بات کو یقینی بنانا کہ ووٹرز کی توجہ ان کے اقتصادی ریکارڈ پر رہے۔

مٹ رومنی کے بیشتر ریپبلیکن حریف پرائمری کے مقابلے سے دستبردار ہو چکے ہیں اور اب ایسا لگتا ہے کہ اگست میں ریپبلیکن پارٹی کی صدارتی نامزدگی کا مقابلہ رومنی ہی جیتیں گے۔ اگلے چند ہفتوں میں وہ ڈیلی گیٹس کی وہ مطلوبہ تعداد حاصل کر لیں گے جو نامزدگی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

رومنی نے اب اپنی تمام تر توجہ صدر اوباما پر اور یہ وعدہ کرنے پر مبذول کر دی ہے کہ اگر وہ نومبر میں صدر منتخب ہو گئے تو اقتصادی حالت کو بہتر کر دیں گے۔

’’خواب دیکھنے والے اب زیادہ بڑے خواب دیکھ سکتے ہیں، ضرورت ہے کہ سائن باہر نکالے جا سکتے ہیں اور ہم ایک بار پھر کاروبار شروع کر سکتے ہیں اور اس بار ہم معیشت کو درست کریں گے۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نومبر میں ملکی معیشت کا مسئلہ فیصلہ کن ثابت ہو گا۔ انتخابی مہم میں وفاقی حکومت کے سائز اور رول کے بارے میں دونوں امیدواروں کے اندازِ فکر کا فرق بھی سامنے آ جائے گا۔

رومنی نے سرکاری اخراجات میں بھاری کمی کرنے کا وعدہ کیا ہے جب کہ صدر نے عہد کیا ہے کہ وہ اقتصادی بحالی کا عمل تیز کرنے کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرتے رہیں گے۔

’’میں نے وہ وعدہ پورا کیا ہے اور مجھے اب بھی آپ لوگوں کی فکر ہے ۔ میں اب بھی آپ کے بارے میں سوچ رہا ہوں اور مجھے اب بھی آپ پر بھروسہ ہے اور اگر آپ میرا ساتھ دیں، تو ہم دنیا کو یاد دلائیں گے کہ امریکہ دنیا کا عظیم ترین ملک کیوں ہے۔‘‘

اس سال کی انتخابی مہم پر جو لوگ کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں ان میں کین ڈیوبیرسٹین بھی شامل ہیں جو 1980ء کی دہائی میں سابق صدر رونلڈ ریگن کے چیف آف اسٹاف تھے۔

کین نے پیشگوئی کی ہے کہ اس انتخاب میں کانٹے کا مقابلہ ہو گا اور نتیجے کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ ووٹرز اوباما اور رومنی کے درمیان انتخاب کرتے وقت کیا سوچتے ہیں۔

’’اگر یہ انتخاب صدر اوباما کےعہدِ صدارت کے پہلے ساڑھے تین برسوں کے بارے میں ریفرینڈم ہے اگر یہ امریکی معیشت کے بارے میں ریفرینڈم ہے تو گورنر رومنی کے امریکہ کا صدر منتخب ہونے کا امکان روشن ہے۔ اگر یہ انتخاب ریپبلیکن پارٹی اور گورنر رومنی کے بارے میں ریفرینڈم ہے تو اس بات کا اچھا خاصا امکان موجود ہے کہ صدر اوباما دوبارہ منتخب ہو جائیں گے۔‘‘

رومنی کو اب ریپبلیکن پارٹی کو متحد کرنا ہے۔ پرائمری انتخاب کی مہم بڑی تندو تیز تھی اور اس میں پارٹی کے قدامت پسند دائیں بازو کے دھڑے کی حمایت حاصل کرنے کی لیے کئی اپیلیں کی گئی تھیں۔

لیکن اس کے ساتھ ہی رومنی کو اعتدال پسند ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنی توجہ ان کی طرف مرکوز کرنی ہوگی ۔ یہ وہ ووٹرز ہیں جو اکثر یہ طے کرنے میں کہ صدارتی انتخاب کون جیتے گا، انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کین کہتے ہیں کہ رومنی کے لیے یہ مشکل چیلنج ہو گا۔

’’میرے خیال میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کیا گورنر رومنی ریپبلیکن پارٹی کو اپنے نظریے کے مطابق ڈھال سکیں گے یا ریپبلیکن پارٹی میں انتہائی دائیں بازو کے عناصر گورنر رومنی کے اندازِ فکر کو تبدیل کریں گے ۔ یہ وہ بحث ہے جو 6 نومبر تک چلتی رہے گی۔‘‘

رائے عامہ کے بیشتر جائزوں کے مطابق فی الحال صدر کو رومنی پر معمولی سی برتری حاصل ہے۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ صدر کو جو برتری حاصل ہے وہ بہت معمولی ہے۔ اگر ووٹروں نے یہ طے کیا کہ معیشت کی بحالی کی رفتار اتنی تیز نہیں جتنی وہ چاہتے ہیں، تو یہ برتری ختم ہو سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG