رسائی کے لنکس

وائٹ ہاؤس کے ایک اعلان کے مطابق، انڈونیشیا کے دورے کے دوران وہ ایشیا بحر الکاہل خطے کی معاشی تعاون کی تنظیم ’ایپک‘ کے سربراہان سے ملاقات کریں گے

ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک کے ساتھ سیاسی، معاشی اور سکیورٹی سے متعلق تعلقات کے فروغ کا اعادہ کرنے کے لیے، صدر براک اوباما چھ سے 12اکتوبر تک انڈونیشیا، برونائی، ملائیشیا اور فلپین کا دورہ کریں گے۔

انڈونیشیا کے دورے کے دوران، وہ ایشیا بحر الکاہل خطے سے متعلق معاشی تعاون کی تنظیم ’ایپک‘ کے سربراہان سے ملاقات کریں گے۔

تجارت اور سرمایہ کاری کو مجتمع کرنے کے ضمن میں ’ایپک‘ خطے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

اِس بات کا اعلان جمعے کے روز وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔

’ایپک‘ کے اجلاس سے باہر صدر اوباما بین البحر الکاہل ساجھے دار ممالک کے راہنماؤں کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ وہ انڈونیشیا کی صدر، سوسیلو ماب بنگ یدھو یونو سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں قریبی باہمی تعلقات کا اعادہ کرنا شامل ہوگا اور امریکہ کی جامع ساجھے داری کے تین سالہ عرصے کی کامیابیوں کا ذکر زیر غور آئے گا۔

امریکہ اور مشرق جنوبی ایشیائی ممالک کے سربراہان کے اجلاس کے علاوہ مشرقی ایشیا کے قائدین کے اجلاس میں شرکت کے لیے صدر اوباما برونائی کا دورہ کریں گے، اور برونائی کے سلطان سے بھی ملیں گے۔

’آسیان‘ اور مشرق اور جنوبی ایشیائی ممالک، کثیر ملکی علاقائی تعاون کی بڑی تنظیمیں ہیں۔ اِن اجلاسوں کے دوران، امریکی صدر ایشیا پیسیفک خطے میں امریکی تعاون کے وسیع تر امکانات پر گفتگو کریں گے، جن میں توانائی، ماہی گیری، سلامتی، سرمایہ کاری، ترقی اور تجارتی تعاون کے فروغ کے علاوہ، علاقائی اور عالمی تشویش کے دیگر موضوع شامل ہوں گے۔

ملائیشیا میں، صدر اوباما ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب سے ملاقات کریں گے، جس میں ملائیشیا کے ساتھ امریکہ کے فروغ پاتے ہوئے تعلقات کا احاطہ کیا جائے گا، جب کہ عالمی ساجھے داری کے سربراہ اجلاس میں وہ کلیدی خطاب کریں گے۔

صدر اوباما نے 2009ء میں عالمی ساجھے داری پر سربراہ اجلاس کی تشکیل کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد نئے وسائل اور خیالات کی اختراع کی صلاحیت کے مالک نوجوان کی پذیرائی کرکے روزگار کے مواقع میں اضافہ لانا ہے۔

وہاں سے، امریکی صدر فلپین جائیں گے۔ ایشیائی معاہدے میں شامل یہ پانچواں ملک ہے جس کا وہ اپنی میعاد صدارت کے دوران دورہ کرنے والے ہیں۔

وہ صدر اکینو کے ساتھ ملاقات کریں گے، جس میں مضبوط معاشی مراسم، عوام کے عوام کے ساتھ روابط اور دونوں ملکوں کے درمیان سلامتی سے متعلق تعلقات کو فروغ دینے کا اعادہ متوقع ہے۔
XS
SM
MD
LG