رسائی کے لنکس

صدر اوباما نے پیر کے دِن جنوبی سوڈان میں خانہ جنگی پر بھی دھیان مبذول رکھا، جس کے لیے اُنھوں نے کینیا، یوگنڈا، ایتھیوپیا اور افریقی یونین کے قائدین سے ملاقات کی، جس دوران اس بحران پر بات کی گئی

امریکی صدر براک اوباما منگل کے روز ادیس ابابا میں افریقی یونین کے صدر دفتر کا دورہ کریں گے، جس سے قبل اُنھوں نے ایک دِن ایتھیوپیا اور جنوبی سوڈان پر کے امور پر دھیان مبذول رکھا۔

صدر اوباما نے پیر کے روز ایتھیوپیا کے دارالحکومت میں ایتھیوپیا کے وزیر اعظم ہیل ماریم دیسالن سے ملاقات کی۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ دونوں ملک متعدد معاملات میں وہ ’مضبوط پارٹنر‘ ہیں۔

تاہم، اُنھوں نے ایتھیوپیا کی حکومت پر زور دیا کہ صحافیوں اور حزب مخالف کی سیاسی پارٹیوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

پیر کے روز ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر اوباما نے بتایا کہ اُنھوں نے وزیر اعظم سے ’صاف گوئی سے گفتگو‘ کی۔ اُنھوں نے کہا کہ صحافیوں اور حزب مخالف کی جماعتوں کی آواز کو جگہ دینے سے حکمراں پارٹی کے ایجنڈے کو تقویت ملے گی، نا یہ کہ روک ٹوک کے ہتھکنڈوں سے کام لیا جائے۔

مسٹر ہیل ماریم دیسالن نے کہا ہے کہ ایتھیوپیا حقوق انسانی اور عمل داری میں بہتری لانے کے عزم پر قائم ہے۔ بقول اُن کے، ’جمہوریت کے لیے ہمارا عزم اصل اہمیت رکھتا ہے، یہ محض زبانی کلامی باتیں نہیں‘۔

صدر اوباما نے پیر کے دِن جنوبی سوڈان میں خانہ جنگی پر بھی دھیان مبذول رکھا، جس کے لیے اُنھوں نے کینیا، یوگنڈا، ایتھیوپیا اور افریقی یونین کے قائدین سے ملاقات کی، جس دوران اس بحران پر بات کی گئی۔

اس اجلاس میں شرکت سے قبل امریکی صدر نے کہا کہ جنوبی سوڈان میں صورت حال ’بہت ہی زیادہ خراب ہوتی جا رہی ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ جنوبی سوڈان کے صدر حزب مخالف کے رہنما اپنی ضد پر اڑے رہے ہیں، اور وہ اپنے ذاتی مفادات میں الجھ کر رہ گئے ہیں، جب کہ اُنھیں ملکی مفاد سے زیادہ غرض نہیں۔

اجلاس کے بعد، ایک امریکی اہل کار نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ رہنماؤں نے جنوبی سوڈان پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز پر غور کیا، اُس صورت میں اگر 17 اگست کی ڈیڈلائن کے اندر اندر کوئی امن معاہدہ طے نہیں پاتا؛ جس میں علاقائی مداخلت کی فوج تعینات کرنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG