رسائی کے لنکس

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ انھوں نے ڈیموکریٹ پارٹی کے کمپیوٹر نظام کی مبینہ ہیکنگ کے بارے میں ستمبر میں روس کے صدر ولادیمر پوتن سے بات کی تھی اور اس گفتگو کے بعد ہیکنگ جیسے معاملات دیکھنے میں نہیں آئے۔

یہ بات انھوں نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں سال کے اختتام پر اپنی سالانہ نیوزکانفرنس میں صحافیوں کو بتائی۔

"ہم نے حقائق پر مبنی سادہ سی بات کی، جو کہ انٹیلی جنس جائزوں پر مبنی ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی ہیکنگ کی ذمہ داری روسی پر تھی اس اس کے نتیجے میں یہ بہت اہم ہے کہ ہم تمام امور کا جائزہ لیں اور اس آئندہ ایسی کسی چیز کو ہونے سے روکنے کو یقینی بنائیں۔"

اوباما نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے اس سے ایسے کوئی بھی نتائج اخذ نہ کرنے پر توجہ دی جو کہ انتخابی عمل پر اثر انداز ہوں۔

"ہم یقینی بنانا چاہتے تھے کہ انتخابات سے قبل ہم ان کی ساکھ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سوالات کو جنم دے کر ہیکرز کا کام (آسان نہ) کریں۔"

صدر نے بتایا کہ انھوں نے ستمبر میں چین میں ہونے والے ایک اجلاس میں پوتن سے بات کی تھی اور انھیں کہا تھا کہ یہ "مداخلت" بند کی جائے۔

ان کے بقول ایسے معاملات کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے اقدام کرنا ہی سب سے ضروری اور موثر چیز ہے۔

انھوں نے ذرائع ابلاغ کو بھی مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی چوری ہونے والی ای میلز کے مواد پر توجہ مرکوز کیے رکھی اور اس طرح دھیان نہیں دیا کہ اس کے مضمرات کیا ہوں گے۔

"میرے لیے یہ تجسس ہے اچانک ہی ہر کسی نے حیران کن انداز اپنا لیا اور اس معاملے کے ہلری کلنٹن کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھنا شروع کر دیا، کیونکہ آپ (ذرائع ابلاغ) نے ہر روز اس کی جزیات، اس سیاسی موشگافیوں پر لکھا۔"

لیکن اوباما نے اپنی انتظامیہ کی طرف سے اس معاملے پر اختیار کیے گئے ردعمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے اسے اسی طرح دیکھا جس طرح دیکھا جانا چاہیے تھا۔"

اوباما نے مزید کہا کہ ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں انھوں نے ایسے ہی تحفظات کا اظہار چین کے صدر شی جنپنگ سے بھی کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG