رسائی کے لنکس

بحالی اور تعمیر نو میں دنیا کو پاکستان کی مدد کرنا چاہیے: اوباما


صدر براک اوباما نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب سے تباہی کے بعد امریکہ نے دنیا میں منفرد ذمہ داریاں بھی نبھائی ہیں جو کہ ایک عالمی طاقت ہونے کی وجہ سے امریکہ پر عائد ہوتی ہیں۔ پاکستان میں بارشوں اور سیلاب کے بعد ہم نے مدد کا وعدہ کیا اور ہم سب کو پاکستانی عوام کی بحالی اور تعمیر نو میں مدد کرنے چاہیے۔

صدر اوباما نےکہا کہ انکی انتظامیہ کی سب سے بڑی ترجیح امریکی معیشت کو تباہی سے بچانا رہی ہے، اور ایک ایسے دور میں جبکہ خوشحالی عالمی سطح پر شئیر کی جاتی ہے، یہ کام امریکہ اکیلے نہیں کرسکتا اس لیے ہم نے دنیا کی دوسرے قوموں کے ساتھ مل کر معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔

ایران کے نیوکلیر پروگرام کے بارے صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ نے مہلک ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی کوششوں کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھایا اور ایران پر واضح کیا کے عامی برادری کے ایک رکن کی حیثیت سے حقوق کے ساتھ ساتھ اسکی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ اور ان ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکامی پر ایران کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران این پی ٹی کا واحد رکن ہے جس نے اپنے نیوکلیر پروگرام کے پر امن ارادوں کو واضح طور پر آشکارا نہیں کیا ہے۔ لیکن امریکہ اور عالمی برادری ایران سے اپنے اختلافات کا پر امن حل چاہتی ہے۔ اور ایران کے لیے ڈپلومیسی کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ ایرانی حکومت کو بلکل صاف اور قابل اعتبار طور پر اپنے نیوکلیر پروگرام کے پرامن ہونے کی وضاحت کرنا ہوگی۔

مشرق وسطیٰ میں امن کو کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ حالات کی ابتری کے باوجود امریکہ نے امن کے حصول کیلیے کی جانے والی اپنی کوششوں میں تسلسل برقرا ر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال انہوں نے اسرائیل اور فلسطین کی صورت میں دو آزاد ریاستوں کے حصول کے مقصد کی خاطر اپنی تمام توانائیاں صرف کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ اس مقصد کا حصول اسرائیل اور اسکے تمام پڑوسی ممالک کے درمیان ایک مکمل امن معاہدے ہی کے ذریعے ممکن ہے تاکہ خطے کے عوام امن اور آشتی کے ساتھ اپنی زندگیاں بسر کرسکیں۔

گزشتہ سال ہم نے اس منزل کے حصول کیلیے گھاٹیوں اور وادیوں سے بھرپورایک طویل اور دشوارگزار سفر طے کیا ۔ اور مجھے خوشی ہے کہ ان کوششوں کے نتیجے بالآخر ہمیں رواں ماہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان واشنگٹن، شرم الشیخ اور یروشلم میں براہِ راست مذاکرات کے عمل کا دوبارہ آغاز ممکن بنانے میں کامیابی نصیب ہوئی۔

-بہت سے لوگ اس مذکراتی عمل کے بارے میں مایوسی کا شکار ہیں۔ معاملے کا تاریک پہلو دیکھنے والوں کا موقف ہے کہ اسرائیلی و فلسطینی ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں، وہ اندرونی طور پر تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں، اور یہ کہ اس صورتحال میں دیرپا امن کا حصول ناممکن ہے۔ ہمیں علم ہے کہ دونوں طرف موجود مذاکراتی عمل سے خائف عناصر اس عمل کو اپنے بیانات اور کاروائیوں سے سبوتاژ کرنے کی کوشش کرینگے۔ کچھ لوگوں کی یہ بھی رائے ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان موجود خلاء بہت وسیع اور مذاکرات کی ناکامی کے امکانات بہت روشن ہیں۔ اور یہ بھی کہ ناکامیوں سے عبارت گزشتہ کئی دہائیوں کی تاریخ کا فیصلہ یہ ہے کہ خطے میں امن کا حصول ناممکن ہے۔

-لیکن اگر مذاکرات کا یہ عمل کامیاب نہ ہوسکا تو متبادل صورتِ حال کا تصور کیجیے۔ اگر دونوں فریق کسی سمجھوتے پر پہنچنے میں ناکام رہے تو فلسطینی عزت و وقار کے اس احساس سے ناآشنا رہیں گے جو انہیں اپنی مملکت کے حصول کی صورت میں نصیب ہونا ہے۔ اسرائیلی کبھی اس سلامتی اور استحکام کا مزہ نہیں چکھ پائیں گے جس کا حصول آپ کی سرحدوں کے ساتھ بقائے باہمی پہ یقین رکھنے والے آزاد اور مستحکم پڑوسیوں کی موجودگی کے سبب ہی ممکن ہے۔ آبادی کی تقسیم جیسے تلخ حقائق حالات کا رخ طے کرینگے۔ مزید خون بہایا جائے گا۔ اور وہ مقدس سرزمین جسے انسانیت کی مشترکہ قدروں کا امین ہونا چاہیے، وہ ہمارے اختلافات کی ایک نظیر بن جائے گی۔

-میں ایسے مستقبل کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہوں۔ دراصل ہم سب کے پاس اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار موجود ہے۔ اور ہم سب کو لازمی طور پر اس راستے کا انتخاب کرنا چاہیے جو امن کی طرف جاتا ہے۔

-اس راستے کی سب سے بڑی ذمہ داری خود تنازعے کے ان دو فریقوں پر عائد ہوتی ہے جنہیں وقت کی پکار کا جواب دینا ہے۔ اور مجھے خوشی ہے کہ دونوں فریق اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اسے نبھانے کیلیے پرعزم ہیں۔-

XS
SM
MD
LG