رسائی کے لنکس

’’اس چیلنج کے لمحے، موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے واضح کردینا چاہتا ہوں، جس میں تبدیلی کا امکان نہیں، کہ یورپ کی سلامتی اور دفاع، اوقیانوس کے دونوں پار کے تعلقات اور ہمارے مشترکہ دفاع کے معاملے پر ہمارا عزم غیر متزلزل ہے‘‘

یورپ کے لیے طویل مدتی امریکی اعانت کا عہد کرتے ہوئے، صدر براک اوباما نے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا، جس کے لیے اُن کا کہنا ہے کہ یہ نیٹو کے اتحاد اور یورپ کے لیے ’’اہم ترین لمحہ‘‘ ہے۔

اوباما نے ہفتے کے روز وارسا میں نیٹو کے بند کمرے کے سربراہ اجلاس کو بتایا کہ ’’اس چیلنج کے لمحے، موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے واضح کردینا چاہتا ہوں، جس میں تبدیلی کا امکان نہیں، کہ یورپ کی سلامتی اور دفاع، اوقیانوس کے دونوں پار کے تعلقات اور ہمارے مشترکہ دفاع کے معاملے پر ہمارا عزم غیر متزلزل ہے‘‘۔

امریکی حکام نے سرد جنگ کے بعد اتحاد کے موجودہ اجلاس کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

امریکی اہل کاروں نے کہا ہے کہ نیٹو سربراہ اجلاس ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں نیٹو اپنا دھیان یقین دہانی سے ہٹا کر دفاع کو مضبوط تر کرنے پر مبذول کر رہا ہے۔

جمعے کے روز اجلاس کے آغاز پر، اوباما نے اعلان کیا تھا کہ تقریباً 1000 فوج پولینڈ بھیجی جائے گی جس کے لیے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ روسی جارحیت سے نمٹنے کی غرض سے یہ ایک خاصی تعداد ہے۔

نیٹو کے ارکان نے ایسٹونیا، لیٹویا اور لتھوانیا کے بلقان کے ملکوں میں مزید فوجی تعیناتی پر بھی اتفاق کیا، جس کے لیے نیٹو اہل کار کہتے ہیں کہ یہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے اب تک اتحاد کی جانب سے سب سے بڑی تعیناتی ہے۔

XS
SM
MD
LG