رسائی کے لنکس

امریکہ اب شامی مخالفین کے نئے اتحاد کو تسلیم کرتا ہے: اوباما


فائل

فائل

منگل کو امریکی ٹیلی ویژن پر ایک بیان میں مسٹر اوباما نے کہا کہ نیا اتحاد کافی حد تک شامی عوام کی نمائندگی کرتا ہے، جسے اسد حکومت کے خلاف شام کے عوام کا ایک جائز نمائندہ تسلیم کیا جانے لگا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ اب مخالفین گروپوں پر مشتمل شام کے نئے تشکیل دیےگئے اتحاد کو تسلیم کرتا ہے، جس اقدام کا مقصد لڑائی کا ہدف بنے ہوئے شامی صدر بشار الاسد کے خلاف دباؤ میں اضافہ کرنا ہے۔

منگل کو امریکی ٹیلی ویژن پر ایک بیان میں مسٹر اوباما نے کہا کہ نیا اتحاد کافی حد تک شامی عوام کی نمائندگی کرتا ہے، جسے اسد حکومت کے خلاف شام کے عوام کا ایک جائز نمائندہ تسلیم کیا جانے لگا ہے۔

کافی عرصے سے اِس اقدام کی توقع کی جارہی تھی، جِس کا مقصد اسد حکومت کو ہٹانا اور باغیوں کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے۔

تاہم، اِس اقدام سے اپوزیشن کو مسلح کرنے کا امریکی عزم پورا نہیں ہوتا، جِس کے بارے میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اِس میں دہشت گرد بھی ملوث ہیں۔

’اے بی سی ٹیلی ویژن‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر نے اپوزیشن اتحاد میں ایک چھوٹے سے عنصر کی طرف دھیان مبذول کرایا، جو اُن کے الفاظ میں، عراق کی القاعدہ سے منسلک ہے، اورالنصرہ نامی اِس تنظیم کو پہلے ہی دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

اِس سے کچھ گھنٹے قبل، امریکی محکمہٴ خارجہ نے باضابطہ طور پر جبھت النصرہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جس اقدام کے بعد اُس کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں۔ اِس کے تحت شامی صدر کی حمایت کرنے والے دو ہتھیاربند ملیشیا گروپوں کے خلاف بھی تعزیرات کا اعلان کیا گیا ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اسد حکومت کے خلاف لڑنے والے باغی گروپوں میں النصرہ سب سے زیادہ مؤثر رہا ہے۔ اِس مؤثر بغاوت نے امریکی تشویش میں اضافہ کیا، آیا 21ماہ سے جاری سرکشی کی قیادت کہیں سخت گیر انتہا پسند تو نہیں کر رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG