رسائی کے لنکس

وائٹ ہاؤس کی بریفنگ کے دوران، اوباما نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’یہ تفریح نہیں۔ یہ کوئی ریئلٹی شو نہیں ہے‘‘۔ جب اُن سے ٹرمپ کے بارے میں پوچھا گیا، تو صدر نے کہا کہ تمام صدارتی امیدواروں کو ’’ایک ہی معیار پر پرکھنا ہوگا اور اُن کی باتوں کا درست تجزیہ کیا جانا چاہئیے‘‘

امریکی صدر براک اوباما نے جمعے کے روز کہا ہے کہ امریکی ووٹروں کو ری پبلیکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار، ڈونالڈ ٹرمپ اور دیگر صدارتی امیدواروں کی باتوں کو ’’سنجیدگی سے لینا چاہیئے‘‘۔

وائٹ ہاؤس کی بریفنگ کے دوران، اوباما نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’یہ تفریح نہیں۔ یہ کوئی ریئلٹی شو نہیں ہے‘‘۔

جب اُن سے ٹرمپ کے بارے میں پوچھا گیا، تو صدر نے کہا کہ تمام صدارتی امیدواروں کو ’’ایک ہی معیار پر پرکھنا ہوگا اور اُن کی باتوں کا درست تجزیہ کیا جانا چاہئیے‘‘۔

اوباما نے صدارتی امیدواروں کو ملنے والی میڈیا کوریج کے معیار کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے بات واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’’منظر کشی اور سرکس‘‘ ایسا معاملہ نہیں، جس کی امریکہ میں گنجائش ہونی چاہیئے۔


دریں اثنا، صدر نے کہا کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار برنی سینڈرز کو اپنی انتخابی مہم بند کرنے کے لیے نہیں کہیں گے۔ تاہم، اُنھوں نے تسلیم کیا کہ سینڈرز کا امکان کم ہے۔ اُن کی مد مقابل، ہیلری کلنٹن کو سینڈرز کے مقابلے میں واضح برتری حاصل ہے، جن کے پاس 300 سے زائد ڈیلیگیٹس ہیں۔

أوباما نے کہا کہ اس سے قطع تعلق کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی کون جیتتا ہے، اصل مسائل یہی رہیں گے۔ بقول اُن کے، ’’اچھی بات یہ ہے کہ مسائل کے بارے میں پرکھ کے حوالے سے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر مضبوط کثرت رائے پیدا ہو چکا ہے‘‘۔

صدر نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ڈیموکریٹ ٹرمپ کے خلاف زیادہ مؤثر انتخابی مہم اس طرح چلا سکتے ہیں کہ اُن امور کو سامنے لائیں جو اوباما کے تجویز کردہ ہیں، جنھیں کانگریس میں ری پبلیکن پارٹی منظور نہیں کر رہی۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی ترجیحات، مثلاً صحت عامہ کی دیکھ بھال اور امریکی زیریں ڈھانچے کی تعمیر نو، ایسے معاملات ہیں ’’جنھیں سامنے لایا جانا چاہیئے، جو مددگار ثابت ہوں گے۔‘‘

اوباما نے مزید کہا کہ ’’میں چاہتا ہوں کہ ڈیموکریٹس اِن پالیسیوں کے حوالے سے پُر اعتماد ہوکر آگے بڑھیں، جب کہ سامنے آنے والا واضح فرق چیزوں کے سیاق و سباق کو درست زاویہٴ نگاہ بخشے گا‘‘۔

XS
SM
MD
LG