رسائی کے لنکس

روسی صدر کی اوباما کو پچاسویں سالگرہ پر مبارکباد، تجارتی تنظیم کی رکنیت پر بات چیت


)

)

صدر اوباما نے یاد دلایا کہ پچاس برس پہلے جب وہ پیدا ہوئے تھے تو اس وقت کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتاتھا کہ واشنگٹن اور ماسکو عالمی اسٹیج پر ایک دوسرے کے شراکت دار بن جائیں گے۔

صدر براک اوباما نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ ان باقی ماندہ مسائل کے حل کے لیے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن سے بات چیت کرے جو اس کے عالمی تجارتی تنظیم کا 154 رکن بننے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

وہائٹ ہاؤس نے کہاہے کہ روس کے صدر دیمتری میدویودیف نے بدھ کے روز صدر اوباما کو ان کی پچاسویں سالگرہ سے ایک روز قبل مبارک باد دیتے ہوئے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

وہائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہاہے کہ دونوں عالمی راہنماؤں نے عالمی تجارتی تنظیم کی رکنیت حاصل کرنے سے متعلق روس کے 18 برسوں پر پھیلی ہوئی کوششوں پر بات چیت کی۔ جس دوران صدر اوباما نے زور دیا کہ روس کو اپنی رکنیت کے سلسلے میں مذاکرات مکمل کرنے چاہیں تاکہ وہ اس سال کے آخر تک ڈبلیو ٹی او کا ممبر بن سکے۔

کارنی نے کہا کہ دونوں راہنماؤں نے اس پر اتفاق کیا ہے چند ہفتے قبل ان دونوں کی ملاقات کے بعد سے ڈبلیوٹی او میں روس کی رکنیت کے سلسلے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔

مسٹر اوبامانے روس کے نامہ نگاروں سے بھی بات کی اور انہیں بتایا کہ امریکہ اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد گھٹانے کا نیا معاہدہ دوطرفہ تعلقات میں نمایاں بہتری کی ایک عمدہ مثال ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ پچاس برس پہلے جب وہ پیدا ہوئے تھے تو اس وقت کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتاتھا کہ واشنگٹن اور ماسکو عالمی اسٹیج پر ایک دوسرے کے شراکت دار بن جائیں گے۔

انہوں نے مسٹر میدویودیف کو اپنے قومی مفادات کا بڑی دلیری سے تحفظ کرنے والی ایک محب وطن شخصیت قرار دیا ۔تاہم صدر اوباما کا کہناتھا کہ دوطرفہ اور کثیر ملکی بنیادوں پر تعلقات کو فروغ دینے سے روس میں خوشحال ہوگا۔

روس نے صدر اوباما کی سالگرہ کے موقع پر ڈاک کا ٹکٹ اور اس کی مناسبت کا لفافہ اورمہر کا اجرا کیا ہے۔

صدر اوباما اپنی سالگرہ کی تقریبات کے لیے بدھ کی شام اپنے آبائی قصبے شکاگو روانہ ہورہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG