رسائی کے لنکس

صدر اوباما نے ماحولیاتی تبدیلی کو فوری اور بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اثرات خاص طور پر الاسکا کے لیے تباہ کن ہیں۔

امریکہ کے صدر براک اوباما ماحولیاتی تبدیلی کو موجودہ صدی کا ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اس مسئلے پر درکار توجہ نہیں دے رہی۔

شمال مغربی ریاست الاسکا کے دورے پر محکمہ خارجہ کے تعاون سے قطب شمالی میں موسمیاتی معاملات کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک بہت بڑا معاملہ ہے اور "ایک چیز ہوتی ہے بہت تاخیر کر دینا، اور ہم پر یہ موقع آچکا ہے۔"

اوباما پہلے امریکی صدر ہیں جو دائرہ قطب شمالی کا دورہ کر رہے ہیں۔

انھوں نے ماحولیاتی تبدیلی کو فوری اور بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اثرات خاص طور پر الاسکا کے لیے تباہ کن ہیں۔

"ماضی میں جتنا ہم نے سوچا تھا اس سے کہیں زیادہ انسانی سرگرمیاں بہت سے طریقوں سے ماحول کو متاثر کر رہی ہیں۔ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ ایک زمانے میں دور نظر آنے والا خطرہ اب بہت حد تک قریب آچکا ہے۔"

قبل ازیں 11 ملکوں کے وزرا اور یورپی یونین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قطب شمالی میں عالمی حدت کی رفتار کم کرنے کے لیے "فوری" اقدام کیے جائیں گے۔

اس عزم کا اعلان کانفرنس میں امریکہ، فرانس، جنوبی کوریا اور سنگاپور سمیت دیگر ممالک کے حکام نے پیر کو جاری کیے گئے ایک مشترکہ اعلامیے میں کیا۔

کانفرنس کے شرکا نے ماحولیاتی تبدیلی کے عالمی اثرات پر توجہ مبذول رکھی۔

وزرا نے بیان میں کہا کہ "ہم سائنسدانوں کے انتباہ کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ عالمی شرح کے مقابلے میں قطب شمالی میں درجہ حرارت دگنی شرح سے بڑھ رہے ہیں۔ یہاں برف کے پگھلنے میں اضافے سے کرہ ارض کا درجہ حرارت مجموعی طور پر بڑھ رہا ہے۔"

کانفرنس میں شریک الاسکا کے مقامی رہنماؤں نے یہ کہہ کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ وہ لوگ ماحولیاتی تبدیلی کے دہانے پر ہیں۔

ایک قبائلی رہنما لی اسٹیفن کا کہنا تھا کہ "ہم اس زمین کے لیے بہت، بہت زیادہ متفکر ہیں، الاسکا عالمی حدت میں اضافے کا باعث نہیں ہے تاہم دنیا کے اقدامات الاسکا کو متاثر کر رہے ہیں۔"

XS
SM
MD
LG