رسائی کے لنکس

امید ہے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں صدر اوباما کردار ادا کریں گے: سرتاج عزیز


مشیر خارجہ سرتاج عزیز

مشیر خارجہ سرتاج عزیز

پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ خطے میں امن ہر ایک کے مفاد میں ہے اور ان کے بقول اس بارے میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے حالیہ دورہ اسلام آباد میں بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر براک اوباما کے دورہ جنوبی ایشیا سے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

صدر اوباما اتوار کو صبح تین روزہ سرکاری دورے پر بھارت پہنچے تھے جہاں وزیراعظم نریندر مودی سے ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے اور عالمی امن و سلامتی سمیت مختلف امور پر تبادلہ کیا۔

پاکستانی عہدیدار اور سرتاج عزیز نے اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ "مجھے امید ہے کہ دورہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کے لیے صدر اوباما اپنا کردار ادا کریں گے۔"

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو بہتر بنائے بغیر خطے میں ترقی اور خوشحالی کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ خطے میں امن ہر ایک کے مفاد میں ہے اور ان کے بقول اس بارے میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے حالیہ دورہ اسلام آباد میں بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

جان کیری نے رواں ماہ اپنے دورہ پاکستان میں کہا تھا کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کو مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے کی راہ تلاش کرنی چاہیے اور امریکہ بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ تعلقات کو آگے بڑھانا پاکستان اور بھارت کے بہترین مفاد میں ہے اور اس سلسلے میں حقیقی بنیادوں پر کام کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات روز اول ہی سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں لیکن حالیہ مہینوں میں ان میں مزید کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔

اس تازہ تناؤ کی وجہ سرحد اور متنازع علاقے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سرحد کے آر پار سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے پے در پے واقعات ہیں۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتیں فائربندی کی خلاف ورزی میں پہل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتی ہیں۔

پاکستان اور بھارت دونوں ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ تصفیہ طلب معاملات پر بات چیت کے خواہاں ہیں لیکن دونوں ہی اس امر پر پیش رفت کے لیے ایک دوسرے کی طرف سے پہل کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG