رسائی کے لنکس

ٹریڈ اتھارٹی بل پر ووٹنگ سے قبل اوباما کا کانگریس کا دورہ


فائل

فائل

امریکی صدر کے 'کیپٹل ہِل' کے دورے اور ارکان سے ملاقاتوں کے باوجود تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ بِل کو ایوان میں موجود ڈیمو کریٹ ارکان کی حمایت حاصل ہوپائے گی۔

صدر براک اوباما نے مجوزہ ایشیا-پیسیفک تجارتی معاہدے سے متعلق بِل پر رائے شماری سے قبل ڈیموکریٹ ارکان کے تحفظات دور کرنے کے لیے کانگریس کا دورہ کیا ہے۔

صدر اوباما نے یہ دورہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں مجوزہ تجارتی معاہدے پر دیگر ملکوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے قائم کی جانے والی اتھارٹی کی مدت میں توسیع کے قانون پر رائے شماری سے عین قبل جمعے کو کیا ہے۔

امریکی صدر کے 'کیپٹل ہِل' کے دورے اور ارکان سے ملاقاتوں کے باوجود تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ بِل کو ایوان میں موجود ڈیمو کریٹ ارکان کی حمایت حاصل ہوپائے گی۔

کانگریس کے ڈیمو کریٹ ارکان کی اکثریت کو خدشہ ہے کہ 'ٹرانس-پیسیفک پارٹنر شپ' (ٹی پی پی) نامی مجوزہ تجارتی معاہدے کے نتیجے میں امریکہ سے ہزاروں ملازمتیں بیرونِ ملک منتقل ہوجائیں گی جب کہ اس کے نتیجے میں ہونے والی معاشی سرگرمیوں سے قدرتی ماحول بھی متاثر ہوگا۔

ری پبلکن قانون ساز عموماً اس نوعیت کے فری ٹریڈ معاہدوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن کئی ری پبلکن ارکان 2016ء کے صدارتی انتخاب سے قبل صدر اوباما کو اس معاہدے کا کریڈٹ دینے پرتذبذب کا شکار ہیں۔

ری پبلکن ارکان کو خدشہ ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پاگیا تو یہ وہائٹ ہاؤس میں اپنا آخری ڈیڑھ سال گزارنے والے صدر اوباما کی ایک بڑی کامیابی تصور کیا جائے گا اور انتخابات میں ڈیموکریٹ کے حق میں جاسکتا ہے۔

مجوزہ قانون کا مقصد 'ٹریڈ پروموشنل اتھارٹی' کے قیام کی مدت میں توسیع کرنا ہے جس کے نتیجے میں وہائٹ ہاؤس 12 ایشیائی ملکوں کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کرسکے گا جب کہ کانگریس اس معاہدے میں کسی رد و بدل کا اختیار نہیں ہوگا۔

اگر کانگریس نےاتھارٹی کے قیام میں توسیع کا بل مسترد کردیا تو اوباما انتظامیہ کے لیے شریک ملکوں کے ساتھ 'ٹی پی پی' معاہدے پر اتفاقِ رائے کا حصول مشکل ہوجائے گا جو پہلے ہی کئی سال کی تاخیر کا شکار ہوچکا ہے۔

اس سےقبل جمعرات کو وہائٹ ہاؤس کے سینئر حکام نے کیپٹل ہل میں ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان کے ساتھ بند دروازے کے پیچھے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے ارکان کو بِل کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

بعد ازاں صدر اوباما اچانک واشنگٹن میں جاری سالانہ کانگریس بیس بال ٹورنامنٹ کے ایک میچ میں پہنچ گئے تھے جہاں انہوں نے خود بھی کئی ارکان کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں۔

لیکن صدر اوباما اور ان کی انتظامیہ کی مسلسل کوششوں کے باوجود اب تک ایوانِ نمائندگان کے 188 ڈیموکریٹ ارکان میں سے صرف 20 نے کھلم کھلا مجوزہ قانون کی حمایت کرنے کا اعلان کیاہے۔

اس کا مطلب ہے کہ بِل کی منظوری اب ری پبلکن ارکان پر منحصر ہے جن کے قائدین بِل پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اس کے حق میں ووٹ دینے کے امکان پر کوئی حتمی رائے ظاہر کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

'ٹرانس پیسیفک پارٹنر شپ' معاہدے پر مذاکرات کرنے والے ملکوں میں امریکہ کے علاوہ ویتنام ، سنگاپور، پیرو، نیوزی لینڈ، میکسیکو، ملائیشیا، جاپان، چلی، کینیڈا، برونائی اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ جب کہ معاہدہ طے پانے کے بعد اس میں مزید ہم خیال ملکوں کی شمولیت کا بھی امکان ہے۔

امریکہ کی قیادت میں جاری ان مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں دنیا کی 40 فی صد معاشی پیداوار مجوزہ معاہدے کے دائرہ کار میں آجائے گی۔

وہائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں رکن ملکوں کو بین الاقوامی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے، نئی منڈیوں کی تلاش اور شرحِ نمو میں اضافے کے مواقع میسر آئیں گے جس سے چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG