رسائی کے لنکس

اس سال امریکہ اور کیوبا نے ہوانا اور واشنگٹن میں طویل عرصہ سے بند اپنے سفارتخانے دوبارہ کھولے ہیں مگر دونوں کے رہنماؤں نے ابھی ایک دوسرے کے ملک کا دورہ نہیں کیا۔

امریکہ کے صدر اوباما نے کہا ہے کہ وہ اپنے دور اقتدار کے آخری سال کے دوران کیوبا کا دورہ کرنا چاہتے ہیں مگر وہاں وہ اسی صورت جائیں گے اگر وہاں صدر راؤل کاسترو کی حکومت کے مخالفیں سے بھی مل سکیں گے۔

پیر کو یاہو نیوز پر شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں صدر اوباما نے کہا کہ ’’اگر میں دورے پر جاؤں تو اس کے لیے شرط ہے کہ وہاں میں ہر کسی سے بات کرسکوں گا۔ میں نے صدر کاسترو سے براہ راست بات چیت میں یہ واضح کیا ہے کہ ہم ان لوگوں سے بات کرتے رہیں گے جو کیوبا میں آزادی اظہار کا دائرہ بڑھانا چاہتے ہیں۔‘‘

اوباما اور کاسترو نے گزشتہ سال اپنے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا تھا جس سے ان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان نصف صدی سے جاری تعطل کا خاتمہ ہوا تھا۔

اس سال امریکہ اور کیوبا نے ہوانا اور واشنگٹن میں طویل عرصہ سے بند اپنے سفارتخانے دوبارہ کھولے ہیں مگر دونوں کے رہنماؤں نے ابھی ایک دوسرے کے ملک کا دورہ نہیں کیا۔

اوباما نے جنوری 2017 میں اپنا عہدہ چھوڑنے تک کیوبا کے گوانتانامو بے میں قائم ایک قید خانے کو بند کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا جہاں اس وقت 107 مشتبہ دہشت گرد زیرِحراست ہیں۔ انہیں امید ہے کہ وہ رہا کیے گئے مزید قیدیوں کو قبول کرنے کے لیے دیگر ممالک سے معاہدے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ کو امریکہ کی سرزمین پر جیلوں میں منتقل کر دیں گے۔

مگر کانگریس نے گوانتانامو میں زیر حراست کسی قیدی کو امریکہ منتقل کرنے کی مخالفت کی ہے۔ اگر اوباما ایک انتظامی حکمنامے کے ذریعے ایسا کرنے کی کوشش کریں گے تو اس کے خلاف قانون سازوں کی طرف سے شدید احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا امکان ہے۔

XS
SM
MD
LG