رسائی کے لنکس

انتخابات میں مداخلت کرنے والی حکومت کے خلاف کارروائی کی جائے گی: اوباما


انہوں نے کہا کہ،" ان میں سے کچھ (اقدام) واضح ہوں گے اور ان کے بارے میں  بتایا  جائے گا، لیکن بعض ایسے نہیں ہوں گے۔"

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ روس یا کسی بھی دوسری غیر ملکی حکومت کے خلاف کارروائی کرے گا جنہوں نے امریکی انتخابات میں مداخلت کی کوشش کی۔

امریکہ کے نیشنل پبلک ریڈیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر اوباما نے کہا کہ "میرے خیال میں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جب بیرونی حکومت ہمارے انتخابات کی سالمیت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گی۔۔ تو ہمیں کارروائی کرنی ہو گی۔ اور ہم کریں گے۔"

نیشنل پبلک ریڈیو صدر اوباما کا یہ انٹرویو جمعہ کو نشر کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ "ان میں سے کچھ (اقدام) واضح ہوں گے اور ان کے بارے میں بتایا جائے گا، لیکن بعض ایسے نہیں ہوں گے۔"

امریکہ کا خفیہ ادارہ 'سی آئی اے' اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ روسی ہیکروں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے کمپیوٹروں تک رسائی حاصل کی تاکہ ہلری کلنٹن کی مہم سے متعلق ممکنہ پریشان کن ای میلز کو عام کیا جائے جس کا بظاہر مقصد گزشتہ ماہ کے انتخاب میں ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد کرنا تھا۔"

وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایسا روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ملوث ہونے یا ان کی براہ راست علم کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے۔ ماسکو نے اس الزام کو "مضحکہ خیز حماقت" قرار دیا ہے۔

اوباما نے این پی آر کو بتایا کہ امریکہ کے انٹیلی جنس کے اداروں میں (اس معاملے) کا "پوری طرح جائزہ" لیا جا رہا ہے اور وہ اس بارے میں حتمی رپورٹ کا انتظار کر ر ہے ہیں کہ اس میں کون ملوث تھا اور انہوں نے ایسا کیوں کیا تھا۔

اوباما نے مزید کہا کہ "تاہم یہ اس بنیادی نقطہ سے توجہ نہیں ہٹاتا ہے کہ انتخاب کے دوران ہر ایک نے یہ صحیح طور پر محسوس کیا کہ حقیقت میں جو کچھ روسی ہیکروں نے کیا اس کا مقصد ٹرمپ سے زیادہ کلنٹن کی مہم کے لیے زیادہ مسائل کھڑے کرنا تھا۔"

دوسری طرف ٹرمپ نے اپنے ٹوئیڑ بیان میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ "اگر روسی یا کوئی دوسر ادارہ ہیکنگ کر رہا تھا تو پھر وائٹ ہاؤس نے اس پر کارروائی کرنے کے لیے اتنا انتظار کیوں کیا؟ وہ اس کے بارے میں اس وقت شکایت کیوں کر رہے ہیں جب ہلری ہار گئیں؟"

اوباما نے اس بابت کچھ کہنے سے احتراز کیا کہ کیا روس کی طرف سے کمپیوٹر ہیکنگ ک وجہ سے کیا ہلری کلنٹن انتخاب ہار گئیں۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخاب میں بہت سارے عوامل اثر انداز ہو سکتے ہیں لیکن اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان کا اثر ہوا۔

اس بارے میں انہوں نے کچھ نہیں کہا کہ کیا ان کے خیال میں ٹرمپ مہم نے عام کی جانے والے ای میلز سے فائدہ اٹھانے کے علاوہ کیا ان کی ہیکنگ میں کوئی کردار ادا کیا یا نہیں۔

اوباما نے کہا کہ وہ ٹرمپ روس نواز موقف اور ان کے اس اصرار پر حیران رہ جاتے ہیں کہ روس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے کمپیوٹر ہیک نہیں کیے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں امریکہ کے انٹلیجنس اداروں کی اکتوبر میں لیے گئے جائزے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "صرف بہت ہی اعلیٰ عہدیداروں نے ایسی سرگرمیوں کی منظوری دی ہو گی۔" انہوں نے کہا کہ "اعلیٰ ترین عہدیدار" کا حوالہ مبہم نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ بہت واضح ہے۔"

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ارنسٹ نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ اوباما نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ انتظامیہ کی موثر اور منظم منتقلی کے عزم پر قائم ہیں۔

دوسری طرف ٹرمپ کے ایک اعلیٰ معاون کیلیئن کانوے نے ایک ٹی وی انٹرویو میں ارنسٹ کی طرف سے بدھ کو ظاہر کیے جانے والے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ شاید ٹرمپ کو مہم کے دوران امریکہ کے صدراتی مقابلے میں روسی مداخلت کا علم تھا۔

XS
SM
MD
LG