رسائی کے لنکس

داعش کو شکست دیں گے، صدر اوباما کا نئی حکمتِ عملی کا اعلان


اوول آفس سے خطاب

اوول آفس سے خطاب

صدر اوباما نے نئی حکمت عملی کا اعلان واضح کیا کہ ’’داعش کے خلاف لڑائی، اسلام کے ساتھ جنگ نہیں۔‘‘ صدر نے کہا کہ ’’شدت پسندی سرطان کی مانند ہے، جب کہ دہشت گردی کا خطرہ ایک حقیقت ہے‘‘۔

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ داعش 'ٹھگوں اور لٹیروں کا ٹولہ ہے، جس کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ اتوار کی شام گئے اوول آفس سے قوم سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ امریکہ اس شدت پسند گروہ کو شکست دے کر رہے گا۔

اُنھوں نے واضح کیا کہ ’’داعش کے خلاف لڑائی، اسلام کے ساتھ جنگ نہیں۔‘‘ صدر نے کہا کہ ’’شدت پسندی سرطان کی مانند ہے، جب کہ دہشت گردی کا خطرہ ایک حقیقت ہے‘‘۔

صدر اوباما نے کیلی فورنیا شوٹنگ کے واقعے کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے ایک نئی موثر حکمت عملی کا اعلان کیا۔ صدر نے سان برنارڈینو قتل عام کو کھلی دہشت گردی قرار دیا۔

اعلان کردہ حکمت عملی میں 'ویزا ویور' پروگرام کو ختم کرنا، ہوائی اڈوں پر اضافی اسکریننگ کا آغاز، اور داعش کے محفوظ ٹھکانوں پر زوردار حملے جاری رکھنا ’’چاہے وہ جہاں کہیں بھی چھپے ہوئے ہوں‘‘۔ 'ویزا ویور' پروگرام پر نظر ثانی کے بارے میں، صدر نے کہا کہ اُنھوں نے محکمہ خارجہ اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو احکامات جاری کر دیے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ماضی میں امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے داعش اور دیگر دہشت گرد اور انتہا پسند گروپوں کے متعدد دہشت گرد منصوبوں کو ناکام بنایا ہے۔

صدر نے امریکی کانگریس پر زور دیا کہ 'گن کنٹرول' کے حوالے سے فوری قانون سازی کا اقدام کیا جائے، جس سے حملوں میں استعمال ہونے والے خطرناک نوعیت کے ہتھیاروں تک عام شہری کی رسائی باقی نہ رہے۔

ساتھ ہی صدر کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکی کانگریس داعش کا قلع قمع کرنے کے لیے امریکی سلامتی افواج کو ’’مزید طاقتور بنانے کے اقدام کے لیے ووٹ دے‘‘۔

صدر نے کہا کہ گزشتہ ہفتے سان برنارڈینو میں ہونے والے واقعے کے بارے ایف بی آئی حقائق اکٹھے کر رہا ہے۔ تاہم ابھی اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ دونوں حملہ آوروں کا کسی بیرونی دہشت گرد گروہ سے تعلق تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ میں دہشت گرد خطرات سے نمٹنے کے لیے ’’ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں‘‘ جب کہ امریکی فوج نے بیرون ملک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کا پیچھا جاری رکھا ہوا ہے۔

تاہم اُنھوں نے کہا کہ اب دہشت گردوں کا دھیان 'کم پیچیدہ' حملوں کی جانب مرکوز ہے، جیسا کہ کیلی فورنیا میں دیکھا گیا۔

صدر اوباما نے کہا کہ امریکیوں کو خوف زدہ ہونے یا اپنے بلند اقدار کو قربان کرنے کی ضرورت نہیں، اور یہ کہ حکام جاگ رہے ہیں، اور عوام کے تحفظ اور امن کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں جب کہ درکار مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

صدر اوباما نے واضح کیا کہ امریکی فوج کو کسی سرزمین پر پیر رکھنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ موثر اور زوردار فضائی کارروائیوں کے ذریعے متعین اہداف حاصل کیے جائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ داعش کا شدت پسند گروپ یہی چاہتا ہے کہ امریکی بری فوج کو الجھایا جائے۔ تاہم دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا جائے گا اور اس ٹولے کا مقابلہ بہتر حکمت عملی پر عمل درآمد کرکے کیا جائے گا۔

اپنی تقریر میں، صدر اوباما نے امریکی مسلمان برادری کی بہادری اور حب الوطنی کی تعریف کی جو بقول اُن کے امریکہ کی ترقی اور خوش حالی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

ساتھ ہی اُنھوں نے کہا کہ دنیا کی کثیر مسلمان آبادی معتدل خیالات کی مالک ہے، جنھوں نے کھل کر داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی مذمت کی ہے۔

بدھ کو کیلی فورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں معذوروں کی بحالی کے ایک مرکز پر ہونے والی فائرنگ میں سید رضوان فاروق اور تاشفین کے مشتبہ جوڑے نے 'سفاکانہ طریقے سے' فائرنگ کرکے 14 افراد کو ہلاک اور 21 کو زخمی کیا۔ واقعے کے چند ہی گھنٹوں بعد مشتبہ میاں بیوی جائے واردات سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر پولیس فائرنگ میں مارے گئے تھے۔

جمعہ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے، ایف بی آئی کے معاون سربراہ، ڈیوڈ بوڈچ نے صحافیوں کو بتایا کہ تفتیشی افسران نے اس شخص کا سراغ لگا لیا ہے جس نے مبینہ طور پر حملے میں استعمال کیے جانے والے ہتھیار خریدے تھے۔

'ایف بی آئی' حکام کی اس پریس کانفرنس سے قبل امریکی ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ فائرنگ کرنے والامشتبہ جوڑا شدت پسند تنظیم داعش سے متاثر تھا۔

خبروں میں کہا گیا تھا کہ دونوں ملزمان نے واقعے سے قبل فیس بک پر داعش کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار بھی کیا تھا۔

پریس کانفرنس کےدوران ایک سوال پر ڈیوڈ بوڈچ نے کہا کہ امریکی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کا علم نہیں لیکن اگر داعش نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی تو انہیں اس پر حیرت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی افسران واردات میں داعش کے ملوث ہونے کے امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد ملزمان نے واقعے کے شواہد ضائع کرنے کی کوشش کی تھی اور کم از کم دو موبائل فونز کو توڑنے کے بعد کچرے کے ایک ڈبے میں پھینک دیا تھا جو حکام کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جس تقریب پر فائرنگ کی گئی اس کے بیشتر شرکا ملزم رضوان فاروق کے دفتر میں کام کرنے والے ملازمین تھے۔ ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واردات سے قبل رضوان فاروق کی تقریب میں کسی سے منہ ماری ہوئی تھی جس کے بعد وہ اپنے گھر لوٹ گیا تھا۔ کچھ دیر بعد ملزم اپنی اہلیہ کے ہمراہ واپس آیا اور تقریب کے شرکا پر گولیاں برسادیں۔

پولیس نے ملزمان کے گھر سے 12 پائپ بم، بم بنانے کا سامان اور ہزاروں گولیاں برآمد کی ہیں جس کی بنیاد پر تحقیقاتی افسران اس واردات کو اشتعال میں آکر کی جانے والی کارروائی قرار دینے سے گریز کر رہے ہیں۔

سان برنارڈینو کا شہر لاس اینجلس سے 100 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے جہاں کے پولیس سربراہ جیرڈ بورگوان کے مطابق پولیس نے جائے واقعہ سے گولیوں کے 75 خول اور ایک کھلونے میں چھپائے گئے تین پائپ بم بھی برآمد کیے ہیں جو پھٹ نہیں سکے تھے۔

XS
SM
MD
LG