رسائی کے لنکس

صدر اوباما اور صدر زرداری نے اِس بات کو تسلیم کیا کہ پاکستان میں سرگرم دہشت گرد گروپوں کی طرف سےدونوں ملکوں کو درپیش براہِ راست خطرات سے نبردآزما ہونے کے لیے مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے

صدر براک اوباما نے منگل کے روز پاکستانی صدر آصف علی زرداری کو ٹیلی فون کیا جس کے دوران حالیہ امریکہ پاکستان اسٹریٹجک مکالمے میں ہونے والی پیش رفت، پاکستان کی معیشت، ترقی اورطرزِ حکمرانی کی ترجیحات کے بارے میں ساجھے داری پر امریکہ کے عزم کا اعادہ کیا۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدر اوباما نے گذشتہ دو برس کے دوران امریکہ اور پاکستان کے مابین باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کے سلسلے میں حاصل ہونے والی پیش رفت پر بات چیت کی۔

اُنھوں نےامریکہ پاکستان اسٹریٹجک ڈائلاگ کے بارے میں وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن اور وزیر خارجہ قریشی دونوں کے عزم کی نشاندہی کی، جس کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی، معیشت، ترقی اور طرزِ حکمرانی کے معاملات پر مشاورت کو مزید آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے۔

صدر اوباما اور صدر زرداری نے اِس بات کو تسلیم کیا کہ پاکستان میں سرگرم دہشت گرد گروپوں کی طرف سےدونوں ملکوں کودرپیش براہِ راست خطرات سے نبردآزما ہونے کے لیےمزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

اُنھوں نے اِس بات پر بھی اتفاق کیا کہ امریکہ اور پاکستان نےاعتمادسازی اور تعاون کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے سخت محنت کی ہے، اور مضبوط، اسٹریٹجک اور زیادہ شراکت داری پر مبنی امریکہ پاکستان تعلقات کو فروغ دینے کے لیےموجودہ کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

صدر اوباما نے پاکستان میں جمہوریت اور شفافیت کے حوالے سے امریکی حمایت کےعزم پر زور دیا، اور اس بات کی نشاندہی کی کہ امریکہ اور پاکستان، پاکستان میں جمہوری روایات کےاستحکام کو یقینی بنانے کے لیے یکساں سوچ رکھتے ہیں۔

اُنھوں نے پاکستان کی معاشی مشکلات کو بھی تسلیم کیا اور کلیدی معاشی اصلاحات منظور کرنے کے لیے صدرزرداری کی حوصلہ افزائی کی، مثلاً ٹیکس اصلاحات اور توانائی پردی جانے والی مراعات کو قابو میں رکھنا۔

صدر اوباما نے 2011ء میں پاکستان کا دورہ کرنے کے بارے میں اپنے ارادے کا اظہارکیا اور اگلے برس صدر زرداری کے امریکہ کےدورے کا ذاتی طور پر خیرمقدم کیا۔

XS
SM
MD
LG