رسائی کے لنکس

بچوں میں موٹاپے کی ایک اہم وجہ سنیکس ہیں: مطالعاتی جائزہ


بچوں میں موٹاپے کی ایک اہم وجہ سنیکس ہیں: مطالعاتی جائزہ

بچوں میں موٹاپے کی ایک اہم وجہ سنیکس ہیں: مطالعاتی جائزہ

امریکہ اور دنیا بھر میں بچوں میں موٹاپے کے رجحان میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ ایک نئے مطالعاتی جائزے سے پتا چلا ہے کہ اس کی سب سے بڑی وجہ وقت بے وقت ہلکی پھلکی چیزیں یا سنیکس کھاتے پیتے رہنا ہے۔

امریکہ میں ہر تین میں سے ایک بچہ وزن کی زیادتی یا موٹاپے کا شکار ہے۔ ایک نئے مطالعاتی جائزے کے مطابق تین سال تک کی عمر تک کےکچھ فربہ بچوں میں دل کی بیماری خطرناک علامات دیکھی گئی ہیں۔ دوسرے مطالعاتی جائزے یہ بتاتے ہیں کہ فربہ بچوں میں بڑے ہونے کے بعد بھی موٹا رہنے کا امکان دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔

جائزے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکی بچے تین باقاعدہ کھانوں کے درمیان روزانہ تین بار ہلکی پھلکی چیزیں یاسنیکس کھاتے ہیں اور انہیں روزانہ غذا سے جتنے حرارے حاصل ہوتے ہیں ان کا ایک تہائی ان سنیکس سے آتا ہے۔

یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا چیپل ہل کے ماہرین نے 30 سال کے عرصے کی ایک مدت میں امریکی بچوں کی غذائی عادات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے دو سال سے 18 سال کی عمر کے 31 ہزار بچوں کی غذائی عادات سے متعلق اعدادو شمار کا مطالعہ کیا۔ انہیں معلوم ہوا کہ زیر مطالعہ بچوں کی غذا میں حراروں کا سب سے بڑا ذریعہ وقت بے وقت سنیکس کی صورت میں استعمال ہونے والی کھانے پینے کی میٹھی اشیا اور مشروبات تھے۔جب کہ نمکین سنیکس اور میٹھی گولیاں اور ٹافیاں وغیرہ بھی حراروں کا ایک بڑا ذریعہ تھیں۔

بچوں میں موٹاپے کے بارے میں ایک حالیہ سماعت کے دوران سرجن جنرل ریگینا بنجمن نے قانون سازوں کو بتایا کہ اوباما انتظامیہ بچوں کو زیادہ صحت بخش اور کم قیمت خوراک فراہم کرنے کے اقدامات کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بارے میں اتفاق رائے موجود ہے کہ بحیثیت ایک قوم کے ہمیں اپنی کمیونیٹز اور ان مقامات پر جہاں صحت بخش اور سستی خوراک پہنچانا ممکن ہو،فراہم کی جائے۔

اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ 30 سال میں بچوں میں موٹاپے کی شرح تین گنا ہوچکی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس رجحان کو پلٹنے کے لیے سکولوں کی وینڈنگ مشینوں کے ذریعے صحت بخش متبادل کھانے فراہم کیے جانے چاہیں۔

امریکی وزیر زراعت ٹام ول سیک کہتے ہیں کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کہ وینڈنگ مشینوں کے ذریعے جو کچھ فراہم کیا جائے ، وہ معیاری ہونا چاہیے۔ ہمارا خیال ہے کہ اب معیار کی طرف توجہ دینے کا وقت آگیا ہے۔

امریکی خاتون اول نے سکول جانے والے بچوں کو صحت بخش خوراک کھانے اور ور زش کی طرف مائل کرنے کا ایک پروگرام شروع کیا ہے۔

امریکی انتظامیہ نے بھی مزید کراسری اسٹوروں کو غریب کمیونٹیز کو تازہ غذائی اشیا فراہم کرنے میں مدد کے لیے 40 کروڑ ڈالر کی وفاقی معاونت کا اعلان کیا ہے۔

بہت سی ریاستوں کے تعلیمی بورڈزنے کچھ عرصے سے بچوں کے لیے تفریحی وقفے اور فزیکل ایجوکیشن ختم کردی تھی ۔ چنانچہ اب وفاقی حکومت سکولوں پر زور دے رہی ہے کہ وہ بچوں کے لیے تفریحی وقفوں میں اضافہ کریں تاکہ وہ جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔

امریکی سرجن جنرل بنجمن کا کہنا ہے کہ بچوں کے لیے ہماری تجویز یہ ہے کہ انہیں ایلیمنٹری سکولوں میں ہفتے میں 150 منٹ اور سیکنڈری سکولوں میں 225 منٹ کی ورزش کرائی جائے جو اس وقت انہیں میسر نہیں ہے۔

بیماریوں پر کنٹرول اور روک تھام کے مراکز میٹھے مشروبات اور جنک فوڈ پر ٹیکس بڑھانے اور سکولوں کے ارد گرد فارسٹ فورڈ ریسٹورانوں کی موجودگی اور بچوں کے لیے جنگ فوڈ کے اشتہاروں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

بچوں میں فربہی سے متعلق صدر کی ٹاسک فورس اس بارے میں اپنی سفارشات مسٹر اوباما کو پیش کرنے کے لیے ان سے ملنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

XS
SM
MD
LG