رسائی کے لنکس

تحقیق کاروں نے کہا کہ جہاں تک انتہائی موٹے یا فربہ افراد کا تعلق ہے جن کا ’بی ایم آئی‘ 40 یا اس سے زیادہ تھا، ان میں صحت مند وزن حاصل کرنے کا امکان بہت ہی کم تھا۔

ایک وسیع پیمانے پر کی جانے والی نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بہت زیادہ موٹے مرد اور خواتین کے لیے ایک ’نارمل‘ جسمانی وزن حاصل کرنا اور اس کو برقرار رکھنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

موٹاپے کے مسائل اور علاج کی مناسبت سے 'کنگز کالج لندن' کی تازہ تحقیق کی تفصیلات' امریکن جرنل آف پبلک ہیلتھ' جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ جس میں تحقیق کاروں نے موٹاپے کا شکار مرد اور خواتین میں صحت مند جسمانی وزن یعنی یا نارمل باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی ) حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔

باڈی ماس انڈیکس، معیاری وزن کا پیمانہ ہے۔ جس میں قد کے لحاظ سے صحت مند وزن کا تعین کیا جاتا ہے۔

بالغان میں سے جن کا بی ایم آئی 18.5 کے اسکور سے کم ہے، انھیں کم وزنی کہا جاتا ہے اور بی ایم آئی پر 18 سے 24.9 تک اسکور حاصل کرنے والوں کو صحت مند وزن کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔

نو سالہ تجزیہ سے انکشاف ہوا کہ صرف 1,283 مرد اور 2,245 عورتیں جن کا بی ایم آئی 30 سے 35کے درمیان تھا، انھوں نے اپنے نارمل وزن کو حاصل کیا، یعنی ایک سال کے دوران ہر 210 میں سے صرف ایک مرد کے لیے وزن کم کرنے کا امکان تھا۔

مزید برآں عورتوں کے لیے سالانہ امکانات کا اندازا لگاتے ہوئے محققین نے بتایا کہ ایک سال کے دوران ہر 124 عورتوں میں سے ایک میں نارمل وزن حاصل کرنے کا امکان تھا۔

مطالعے میں برطانیہ میں بسنے والے 278,982 زائد الوزن مرد اور عورتوں کے اعداد و شمار کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ جن سے 2004ء سے 2014ء کے درمیان معلومات اکھٹی کی گئی تھیں۔

محققین نے اپنے تجزیے میں شرکاء میں نارمل بی ایم آئی کے حصول یا پھر ان کے جسمانی وزن میں سے پانچ فیصد وزن گھٹانے کے حوالے سے امکانات کا جائزہ لیا ہے ۔

مطالعے کے نتیجے سے ظاہر ہوا کہ شرکاء کے لیے پانچ فیصد وزن کم کرنا آسان تھا۔ سالانہ امکانات کے حوالے سے ہر 12 میں سے ایک مرد کے لیے پانچ فیصد وزن کم کرنے کا امکان تھا، اسی طرح ایک سال میں 10 میں سے ایک خاتون کے لیے پانچ فیصد وزن کم کرنے کا امکان تھا۔

لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ 78 فیصد شرکاء نے 5 سال کے اندر اندر واپس پانچ فیصد وزن بڑھا لیا تھا۔

علاوہ ازیں، مرد اور خواتین شرکاء کی نصف تعداد جنھوں نے کچھ مواقعوں پر وزن گھٹایا تھا وہ مختصر سے عرصے میں یعنی دو سال کے اندر اندر واپس اپنے پرانے وزن پر لوٹ آئے تھے۔

تحقیق کاروں نے کہا کہ جہاں تک انتہائی موٹے یا فربہ افراد کا تعلق ہے۔ جن کا بی ایم آئی 40 یا اس سے زیادہ تھا، ان میں صحت مند وزن حاصل کرنے کا امکان بہت ہی کم تھا اور 1,290 مردوں میں سے صرف ایک شخص میں دبلے ہونے کا امکان تھا، اسی طرح 677 عورتوں میں سے ایک خاتون کے لیے دبلے ہونے کا امکان ظاہر ہوا ۔

کنگز کالج لندن میں صحت اور سماجی بہبود کے ڈویژن سے وابستہ پروفیسر ایلیسن فیلڈس جو تحقیق کی مصنفہ ہیں نے کہا کہ پانچ سے دس فیصد وزن کم کرنے کے جسمانی صحت پر اہم فوائد نظر آئے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہمارے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ موٹاپے کے ساتھ لوگوں کے لیے وزن گھٹانا حتیٰ کہ وزن میں تھوڑی کمی کو برقرار رکھنا کتنا مشکل ہے۔

تحقیق کی روح رواں پروفیسر ایلیسن فیلڈس نے کہا کہ ہمیں پتا چلا ہے کہ وزن پر قابو پانے کی حکمت عملی جس میں ورزش اور ڈائٹنگ شامل ہے، موٹاپے کے لیے موثر ثابت نہیں ہو رہی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی 2014ء کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 18 سال سے زیادہ عمر کے زائد الوزن لوگوں کی تعداد 1.9 ارب تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 600 لاکھ افراد زیادہ موٹے یا فربہ تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 1980ء سے اب تک موٹے افراد کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ دنیا کی زیادہ آبادی ایسے ملکوں میں رہتی ہے، جہاں کم وزن افراد کے مقابلے میں موٹاپا اور زیادہ وزن ہونا لوگوں کو قبل از وقت موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔

لوگوں میں ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ موٹے افراد امریکہ میں رہتے ہیں۔

لیکن ایک پچھلی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ موٹاپے کا رجحان عالمی طور ہر موجود ہے خاص طور پر مشرق وسطی اور افریقہ کے لوگوں میں وزن بڑھنے کا امکان زیادہ ہے جبکہ مشرقی ایشیا میں یہ رجحان لگ بھگ ساٹھ فیصد پایا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG