رسائی کے لنکس

انڈونیشیا کے گرنے والے مسافر طیارے کے ممکنہ ملبے کی نشاندہی


عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تلاش کا کام کرنے والے ایک طیارے نے پیر کا اس ملبے کی نشاندہی کی جس کی بعد امدادی ٹیمیں اس مقام پر پہنچے کی کوشش کر رہی ہیں۔

انڈونیشیا کے مشرقی پہاڑی صوبے پاپوا میں ملنے والے ملبے کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ اس طیارے کا ہے جو اتوار کو موسم خراب ہونے کے باعث گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ طیارے پر 54 افراد سوار تھے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تلاش کا کام کرنے والے ایک طیارے نے پیر کو اس ملبے کی نشاندہی کی جس کی بعد امدادی ٹیمیں اس مقام پر پہنچے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ابھی تک یہ واضع نہیں کہ آیا کوئی اس حادثے میں زندہ بچا ہے یا نہیں۔

اتوار کو صوبائی دارالحکومت جیاپورا کے سینتانی ہوائی اڈے سے پرواز کے 30 منٹ کے بعد ٹریگانہ ایر فلائیٹ 267 کا رابطہ ائیر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا تھا۔ یہ مسافر طیارہ اوکسیبل شہر کے لیے پرواز کر رہا تھا جس کا دورانیہ معمول کے مطابق 50 منٹ کا ہے۔

شہری ہوا بازی کے عہدیداروں کا کہنا ہے عملے کے پانچ افراد کے علاوہ کہ اس طیارے پر 49 مسافر سوار تھے جن میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔

جب طیارہ اپنی منزل پر نہ پہنچ سکا تو ٹریگانہ کی فضائی کمپنی نے اسکی تلاش کے لیے ایک اور طیارے کوروانہ کو کیا تاہم فضائی آپریشن کے ڈائریکٹر بینی سماری اینتو کا کہنا ہے کہ خراب موسم کی وجہ سے کچھ بھی نظر نہ آیا ۔

ٹریگانہ کی پروزایں انڈونیشا میں اندرون ملک ہی چلتی ہیں۔ 1991 میں فضائی آپریشن شروع کرنے کے بعد سے اسے 14 بڑے حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس کا شمار ان فضائی کمپنیوں میں ہوتا ہے جس کی پروازوں پر یورپی یونین کی فضائی حدود میں پابںدی عائد ہے۔

ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کے مطابق لاپتہ ہونے والے اے ٹی آر42-300 ٹوئن ٹربو پراپ طیارے کے 20 سال قبل فضائی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے اسے سیفٹی کے کئی مسائل کا سامنا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG